بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں چینی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے امن و استحکام پر شدید اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر جنگ بندی علاقائی ممالک کے عوام کی عمومی توقع اور بین الاقوامی برادری کی مشترکہ آواز ہے۔ترجمان نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک بات چیت میں چین کے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ تمام علاقائی اہم مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اور طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ بات چیت میں چینی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فریق امن کے قیام کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھا کر جلد از جلد مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرا ئیلی حملے کے بعد ہی سے ، چین نے جنگ روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں اور جب تک کہ یہ تنازع جاری رہے گا، چین کی سفارتی مصالحت کی کوششیں نہیں رکیں گی ۔ لین جئین کا کہنا تھا کہ چین امن قائم کرنے اور جنگ روکنے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر خلیجی علاقے میں امن و سکون کی بحالی میں اپنا حصہ ڈالے گا۔
Trending
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر
- متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر
- اقوامِ متحدہ کا یوم چینی زبان نیروبی میں منایا گیا
- چین کی جانب سے اسلام آبادمذاکرات کی تعریف