News Views Events

ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت کو شدید نقصان، آئی ایم ایف نے وارننگ جاری کر دی

0

—فائل فوٹو

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر پڑنا شروع ہو چکے ہیں اور نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔

واشنگٹن میں جاری اسپرنگ میٹنگز کے دوران آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تب بھی عالمی اقتصادی ترقی میں کمی دیکھنے کو ملے گی، تاہم اگر تنازع طویل ہوا اور توانائی کے شعبے کو مزید نقصان پہنچا تو عالمی شرحِ نمو کم ہو کر 2 فیصد تک آ سکتی ہے جبکہ اگلے سال مہنگائی میں 6 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس جنگ کے معاشی اثرات تمام ممالک پر یکساں نہیں ہوں گے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ ترقی پزیر ممالک کو امریکا کے مقابلے میں تقریباً دگنا زیادہ معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ میں شدت آئی اور تیل کی فراہمی متاثر ہوتی رہی تو دنیا کساد بازاری کے دہانے تک پہنچ سکتی ہے، بدترین صورتِ حال میں عالمی شرحِ نمو 3.1 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد تک گر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں تیل کی قیمت 2026ء میں اوسطاً 110 ڈالرز فی بیرل اور 2027ء میں 125 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اگر جنگ مختصر مدت کی رہی تو 2026ء کے دوسرے نصف میں تیل کی قیمتیں معمول پر آ سکتی ہیں اور اوسط قیمت 82 ڈالرز فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔

درمیانی منظر نامے کے تحت اگر جنگ طویل ہوئی تو اس سال تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالرز فی بیرل اور 2027ء میں 75 ڈالرز فی بیرل رہ سکتی ہے، جبکہ عالمی شرحِ نمو 2025ء کے 3.4 فیصد سے کم ہو کر 2026ء میں 2.5 فیصد تک گر سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے چیف اکنامسٹ نے کہا ہے کہ توانائی کی مسلسل رکاوٹوں اور جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ نہ ہونے کے باعث درمیانی یا منفی منظر نامہ زیادہ حقیقت پسندانہ دکھائی دے رہا ہے۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.