سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کپیٹل مارکیٹ پر سہ ماہی رپورٹ جاری کردی، جس میں بتایا کہ عالمی بحران اور امریکا ایران جنگ کے باوجود کیپیٹل مارکیٹ مستحکم رہی۔
ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں 14.54 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کے ایس ای 100 انڈیکس جنوری میں ایک لاکھ 91 ہزار 33 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین سطح تک بھی گیا۔
کمیشن کے مطابق پہلی سہ ماہی کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 48 ہزار 743 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ کیپٹلائزیشن 19 کھرب 69 ارب روپے سے کم ہو کر 16 کھرب 53 ارب روپے ہوئی۔
سہ ماہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 111 ارب 61 کروڑ روپے کے حصص فروخت کیے۔ مقامی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دیا۔
کمیشن کے مطابق مقامی سرمایہ کاروں نے 111 ارب 55 کروڑ روپے کی خالص خریداری کی۔ کمپنیوں نے 73 ارب 51 کروڑ، میوچل فنڈز نے 23 ارب 78 کروڑ روپے کی خریداری کی جبکہ انفرادی سرمایہ کاروں نے 20 ارب 25 کروڑ روپے کے شیئرز خریدے۔
ایس ای سی پی کے مطابق جنوری تا مارچ پرائمری مارکیٹ میں 3 نئے آئی پی اوز ہوئے، حکومتی اجارہ سکوک نیلامی میں 811 ارب 53 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیٹ مارکیٹ میں 185 ارب 14 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی، پی ایس ایکس کی بلز اینڈ بانڈز مارکیٹ میں 260 ارب 94 کروڑ روپے کا کاروبار ہوا۔
ایس ای سی پی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس دوران اسٹاک مارکیٹ میں دو نجی سکوک لسٹ ہوئے۔
پی این پی