بیجنگ :حالیہ دنوں چین میں مقیم ایک برطانوی بلاگر نے چین میں ایک دلچسپ تجربہ کیا۔وہ ایک مصروف کیفے میں اپنا لیپ ٹاپ میز پر رکھ کر چلا گیا، اور ایک گھنٹے بعد واپس آیا تو وہ جوں کا توں موجود تھا۔ بلاگر نے حیرت سے کیمرے کے سامنے اسے “ناقابلِ یقین” قرار دیا۔ اس طرح کے “سکیورٹی ٹیسٹ” اب بہت سے غیر ملکیوں کے لیے چین کو سمجھنے کا نیا زاویہ بن چکے ہیں۔چین میں مقبول یہ منفرد” احساسِ تحفظ ” آخر کیسے وجود میں آیا؟ پیکنگ یونیورسٹی کے شعبۂ سماجیات کے پروفیسر لو جیے حوا کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال اور پوری آبادی کی متحرک شرکت، اجتماعی تحفظ اور اجتماعی انتظام کا مؤثر نظام ہے، جس نے معاشرے میں ایک مضبوط حفاظتی جال قائم کر دیا ہے۔ مزید گہرائی میں دیکھا جائے تو چینی طرز جدیدیت کے فروغ کے ساتھ لوگوں کے معیارِ زندگی میں مسلسل بہتری آئی ہے، جس سے ان کا اندرونی سکون و تحفظ کا احساس مزید مستحکم ہو رہا ہے ۔ان “تمام عناصر سے چلنے والا” احساسِ تحفظ ، چینی طرز حکمرانی کی نمایاں کامیابیوں کا گواہ ہے اور چین کی نظامی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ احساسِ تحفظ سب سے پہلے مضبوط امن و امان میں نظر آتا ہے، جہاں قانون پر مؤثر عمل درآمد معاشرتی استحکام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔دوسری جانب یہ احساس اس وجہ سے بھی مضبوط ہے کہ عوام کو اپنی زندگی میں بہتری کی واضح امید نظر آتی ہے۔ عوام کو مرکزیت میں رکھنے والی ترقیاتی منطق ، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ترقی کے ثمرات ہر فرد تک پہنچیں۔ جب زندگی مستحکم ہو، سہولیات میسر ہوں اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی کم ہو تو معاشرہ خود بخود منظم اور پرسکون ہو جاتا ہے۔اس احساس کی جڑیں چینی ثقافت میں بھی گہرائی تک پیوست ہیں، جہاں “اجتماعی بھلائی”، “ہم آہنگی” اور “باہمی تعاون” جیسے تصورات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ “گودام بھرے ہوں تو آداب سے بھی شناسائی ہوتی ہے”،معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی شعور اور تہذیبی اقدار میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو مجموعی طور پر ایک متوازن اور محفوظ معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔آج “چین کا سفر” کرنے سے لے کر “چین میں رہنے کی خواہش” اور “چینی طرز کے احساسِ تحفظ” کے تجربے تک، دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی اور مثبت ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانیت کی مشترکہ خواہش ایک محفوظ، مستحکم اور بہتر زندگی ہے اور چین اس سمت میں ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
Trending
- جی لن یونیورسٹی کو اپنی جامع صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے، چینی صدر
- آج دنیا کو پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، چینی نائب صدر
- تحفظ پسندی مسابقتی برتری نہیں بلکہ یہ یورپ میں سرمایہ کاری کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، چینی وزارت خارجہ
- گوبر بینک: دیہی ماحولیاتی نظم و نسق کا چینی تجربہ
- چین میں موسم گرما کے اناج کی خریداری کا سیزن اختتام کے قریب
- جاپان کو اپنی عسکریت پسندی اور جارحیت کی تاریخ درست انداز میں دیکھنی چاہیے، روسی وزارتِ خارجہ
- مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار، عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی
- جاپان کو ایک چین کے اصول کا احترام جاری رکھنا چاہیے، سابق جاپانی وزیر اعظم
- چین آسيان تعلقات کی ترقی کو نئے مواقع حاصل ہو رہے ہیں، چینی وزیر خارجہ
- ’پھر وہی غصے والا امیر ہیرو‘، دانش تیمور کے بار بار ایک جیسے کرداروں سے ناظرین اکتا گئے