بیجنگ :یکم مئی سے، چین نے افریقہ کے 20 ایسے ممالک جو کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہیں اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں ، کے لیے دو سالہ زیرو ٹیرف پالیسی کا نفاذ شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام 53 افریقی ممالک کو زیرو ٹیرف کی سہولت میسر آ گئی۔ اس اقدام سے نہ صرف چین اور افریقہ کے درمیان تجارت کے لیے وسیع گنجائش اور مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ افریقہ کی جدید کاری کو مضبوط قوت فراہم کی گئی ہے ۔درحقیقت، چین یکم دسمبر 2024 سے پہلے ہی 33 افریقی کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے تمام مصنوعات پر زیرو ٹیرف نافذ کر چکا تھا، جس کے نتیجے میں افریقہ کی متعدد منفرد مصنوعات چینی صارفین تک پہنچیں اور دونوں خطوں کے عوام کو براہِ راست فائدہ ہوا۔2025 میں چین ۔افریقہ تجارت میں 17.7 فیصد اضافہ ہوا، اور چین لگاتار 17ویں سال افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بنا رہا۔ 14 فروری 2026 کو چین۔افریقہ تعاون میں ایک بار پھر اہم پیشرفت ہوئی: چین نے یکم مئی سے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کے لیے مکمل زیرو ٹیرف کا اعلان کیا۔ یوں چین دنیا کی پہلی بڑی معیشت بن گیا ہے جس نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام افریقی ممالک کے لیے اس نوعیت کی جامع پالیسی اپنائی ، جس نے عالمی تجارت کی بحالی کے لیے باہمی فائدے اور جیت جیت کی ایک مثال قائم کی ہے۔یکم مئی سے نافذ ہونے والی زیرو ٹیرف پالیسی افریقہ کے لیے کیا ثمرات لائے گی؟ اول تو، یہ افریقہ کو درپیش خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک “ڈھال” فراہم کرے گی۔ چین کی جانب سے بغیر کسی سیاسی شرط کے افریقہ کو مکمل زیرو ٹیرف دینا، بلاشبہ افریقی مصنوعات کو ایک وسیع مارکیٹ مہیا کرے گا اور افریقہ کی معاشی ترقی کے اعتماد کو بڑھائے گا۔ اس کے علاوہ، زیرو ٹیرف افریقی ممالک کی ترقی میں” ایکسلریٹر” کا کردار ادا کرے گا۔ زیرو ٹیرف کی وجہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری افریقہ کا رخ کرے گی، جو سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے تجربات لے کر آئے گی، اور افریقی خصوصی مصنوعات کو مقامی طور پر پروسیس کر کے چین برآمد کیا جائے گا۔ اس سے افریقہ کی صنعتی اور زرعی جدید کاری کو تقویت ملے گی اور افریقہ اپنی ترقی کی باگ ڈور خود سنبھال سکے گا۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے چین کے زیرو ٹیرف اقدام کی بہت تعریف کی ہے اور تمام ترقی یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط ممالک سے بھی یہی طرز عمل اپنانے کی اپیل کی ہے۔افریقہ اور چین کی جدید کاری کے بغیر دنیا کی جدید کاری ادھوری ہے۔ زیرو ٹیرف کا یہ “پاس” نہ صرف چین۔افریقہ تعاون کا نیا باب کھولے گا، بلکہ عالمی معیشت کو اعتماد اور قوت بھی فراہم کرے گا، اور لوگوں کو یہ بات سمجھائے گا کہ کھلا پن، رواداری اور مشترکہ ترقی ہی درحقیقت انسانیت کا صحیح راستہ ہے۔
Trending
- سعودی ماہرین نے 1300 سال سے زائد قدیم مسجد دریافت کر لی، دیوار پر تحریر بھی ملی ، کیا لکھا ہے ؟
- فیول ریلیف اسکیم پر پیٹرولیم ڈیلرز کا اظہارِ تشویش
- اہم شخصیت کو لے جانیوالا طیارہ لیبیا کے ایئرپورٹ پر گر کر تباہ
- امریکا میں ڈیزل کی فی گیلن قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
- تین ہزار برس قدیم ’چیختی ممی‘ کی پراسرار موت کا معمہ
- ملک میں سونے کے بھاؤ میں کمی ریکارڈ
- اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی حوصلہ افزائی خطے کو خطرناک بھنور میں دھکیل دے گی، چینی وزارت دفاع
- تائیوان کے معاملے پر حد پار کرنے والوں کو لامحالہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، چینی وزارت خارجہ
- چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کی ملاقات میں اہم ترین اتفاق رائے چین اور بھارت کا شراکت دار بننا ہی ہے، چینی وزارت خارجہ
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔