تحریر: سمیع الرحمان
ایک پرانی بیماری جس سے ہماری مقتدرہ کافی عرصے سے دوچار نظر آتی ہے وہ ہے اوٹ پٹانگ حرکتوں کے اچانک دورے۔ بظاہر سب کچھ صحیح چلتا ہے لیکن دفعتاً کوئی ایسا واقعہ رُونما ہو جاتا ہے کہ بندہ سر پکڑ کر رہ جاتا ہے۔
اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی شاہراہ ٔ دستور کی شاندار جگہ پر واقع وَن کنسٹی ٹیوشن پر رات ایک بجے پولیس کا چھاپہ ہے۔ پولیس کی زبانی اس نے یہ کاروائی سی ڈی اے کہ شہ پر کی گئی۔ سی ڈی اے کا موقف ہے کہ مذکورہ جڑواں ٹاور کی مالک کمپنی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دریں اثنا ء وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی پولیس کے چھاپے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے میدان میں کود پڑے اور وَن کنسٹی ٹیوشن کے گزشتہ دو دہائیوں پر محیط اعمالِ بد کا پورا پلندہ میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔ جو عموماً ایسے مواقع پر سرکار کا پرانا وطیرہ یا دوسرے الفاظ میں طریقۂ واردات رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عمارت کی زمین کو لیز کیے ہوئے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے۔ عمارت کی تعمیر بھی عرصہ ٔ دراز سے پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ اچانک کون سی قیامت آ گئی کہ پولیس رات ایک بجے مکینوں کے دروازے توڑنے لگی ۔ کیا یہ کاروائی دن میں نہیں کی جا سکتی تھی؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ مالک کمپنی اور مکینوں کو ایک نیا نوٹس جاری کیا جاتا اور ۲۴ گھنٹوں کی بجائے کم از کم ہفتہ دو ہفتے دیے جاتے؟
سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ان ٹاورز کی تعمیر کے وقت سی ڈی اے سوتی رہی؟ کیا سی ڈی اے، جس میں خود وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بقولِ مشہور ، کوئی کام پیسوں کے بغیر نہیں ہوتا، نے اس منصوبے میں کروڑوں اربوں روپے رشوت ہڑپ نہیں کئے ہوں گے؟
بظاہر اس اچانک کاروائی کا تعلق حالیہ دِنوں میں منعقدہ ایران، امریکہ اسلام آباد مذاکرات سے ہے، جب غیر ملکی وفود اور بین الا قوامی خبر رساں اداروں کی ایک بڑی تعداد دارالخلافہ میں وارد ہوئی اوربڑی شدت سے شہر میں معیاری ہوٹلوں کی کمی محسوس کی گئی ۔
اس کا اظہار محسن نقوی صاحب بھی کئی بار کر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ وَن کنسٹی ٹیوشن اس سلسلے میں قربانی کا واحد بکرا نظر آیا۔ کہ لیز کی یہ زمین دراصل فائیو سٹار ہوٹل گرینڈ حیات کو دی گئی تھی لیکن بعد میں خراب ملکی معاشی اور سیکیورٹی حالات کے پیش نظر اس کو رہائشی منصوبے میں تبدیل کر دیا گیا۔
گویا شہر میں معیاری ہوٹلوں کی کمی کا فوری حل یہ نکالا گیا کہ وَن کنسٹی ٹیوشن کو ڈرا دھمکا کرخالی کیا جائے ۔ بھلا ہو ہمارے نہایت ہی مطیع اور فرماں بردار وزیرِ اعظم کا کہ انہوں نے اس پورے معاملے کا سرعت سے نوٹس لیا اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ۔ یوں یہ ساری کاروائی روک دی گئی۔
بظاہر یہ اعلان جتنا خوش آئند تھا اس سے زیادہ افسوس ناک بھی۔ کہ چند ہی روز قبل عین وزیرِ اعظم ہاؤس کے عقب میں بری امام کی ایک پوری بستی سی ڈی اے نے مسمار کر دی ۔ علاقہ کے مکینوں نے احتجاج بھی کیا۔ متاثرہ خاندانوں کی دِلدوز کہانیاں بھی منظر عام پر آئیں اور خواتین کی آہ و بکا بھی سنائی دی ۔ لیکن مجال ہے کہ حکمرانوں کے کانوں پر کوئی جوں رینگی ہو ۔ جوں نے کیا رینگنا تھا، اُلٹا پولیس کی جانب سے روایتی انداز میں مظاہرین پر بدترین تشدد کیا گیا ۔
کچھ یہی یا اس سے بدتر حال سی ڈی اے سیکٹروں جی سیون اور جی نائن وغیرہ میں واقع کچی آبادیوں کا ہے اور اس طرح کے دوسرے علاقوں کا بھی۔ جہاں زیادہ تر بے چاری غریب مسیحی برادری عرصۂ دراز سے رہائش پذیر ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ آج اگر آپ کو اسلام آباد ’’کلین اینڈ گرین‘‘ نظر آتا ہے تو اس میں اس برادری کا پورا حصہ ہے تو غلط نہ ہو گا۔
وَن کنسٹی ٹیوشن معاملے کی بابت طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ امیر ہو یا غریب جہاں کہیں بھی غیرقانونی تعمیر و تجاوزنظر آئے، ریاست اس کے خلاف بھرپور کاروائی کرے گی ۔ اسی پریس کانفرنس کے چند ہی گھنٹے بعد وزیرِ اعظم نے کمیٹی بنا کر اس کے دعوے سے یکسر طور پر ہوا نکال دی کہ وَن کنسٹی ٹیوشن پرائم لوکیشن پر واقع اُمراء کا ٹھکانہ ہے اور بری امام، سید پور، اور رمشا کالونی وغیرہ غریب لاچاروں کا۔
حقیقتِ احوال یہ ہے کہ وَن کنسٹی ٹیوشن ہو یا کچی آبادیاں ، یہ دونوں دراصل بحیثیتِ قوم ہماری ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ باالفاظِ دیگر یہ کمزور ریاست کی ایک بڑی نشانی ہے۔ ملک آسودہ حال ہوتا تو نہ کنسٹی ٹیوشن وَن ہوٹل سے رہائشی منصوبے میں بدلتا، نہ ہی دارالخلافے میں جگہ جگہ کچی آبادیاں نظر آتیں۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ بیروزگاری ، مہنگائی اور مفلوک الحالی نے ویسے ہی عوام کا جینا محال کر دیا ہے، مسماری اور بربادی یا بلڈوزر کسی بھی طور مسائل کا حل نہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ریاست پہلے کچی آبادیوں کے مکینوں کا شفاف طریقے سے ڈیٹا بناتی ۔ان علاقوں کا کچھ حصہ کثیر منزلہ اپارٹمنٹس کے لیے مختص کرتی ۔ اور متاثرہ خاندانوں کو ان میں آباد کرکے باقی ماندہ علاقہ اپنے پاس رکھتی ۔ اس سے نہ صرف غریب طبقے کا بھلا ہوتا بلکہ شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا۔
جہاں تک وَن کنسٹی ٹیوشن کا تعلق ہے تو اس کا علاج بھی اُوٹ پٹانگ طریقے سے اس کو بلڈوز کرنا نہیں بلکہ مالک کمپنی کو اپنے سرمایے کی منصفانہ واپسی ہے۔ یا پھر یہ آپشن کہ وہی اس کو ایک اعلیٰ معیار کے فائیو سٹار ہوٹل میں بدلے۔
اللہ بخشے مونال ریسٹورنٹ کو ، جو ایک وقت میں شہر کے باسیوں کے پاس سیاسی ہلچل ، دھرنوں اور ہڑتالوں سے فرار کا بڑا ذریعہ تھا۔ عدالت کے ناعاقبت اندیش فیصلے نے اس کو بھی اُجاڑ کر بھوت بنگلے میں بدل ڈالا۔ بعد ازاں، ریسٹورنٹ کے مالک نے قسم کھائی کہ وہ آئندہ اس ملک میں کبھی بھی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ ایک پہلے سے اُجڑے اور سرمایہ کاری سے عاری ملک کے لیے اس سے زیادہ دکھ کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر مظلوم عوام کی آہ و بکا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پلک جھپکنے میں آسمان کو پہنچتی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور دانش مندی سے ان جیسے دیرینہ مسائل کا ایک پائدار اور منصفانہ حل نکالے۔