News Views Events
Apna Watan

وو ژی چو آئی لینڈ ۔چین کا مالدیپ

0

 

 

اعتصام الحق

 

چھٹے ایشین بیچ گیمز کے  لئے  میں چین کے صوبے ہائینان کے شہر سانیا میں موجود ہوں ۔یہ شہر سیاحتی اعتبار سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے خاص طور پر اپنے ساحلوں کی وجہ سے۔یہاں ہوا میں نمی ہر دم آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ساحل   کی لہریں آپ سے دور  نہیں بلکہ آپ کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں ۔گیمز کی کوریج کے دوران جب جب موقع ملتا ہے کوشش ہوتی ہے کہ اس شہر کی خوبصورتی کو بھی دیکھا جائے ،معلوم نہیں پھر کب زندگی یہاں دوبارہ لائے اور لائے بھی یا نہیں ۔میں نے یہاں کئی  چینی دوستوں سے سنا کہ یہاں ایک ایسا جزیرہ ہے جسے آپ نے اگر نہیں  دیکھا تو سمجھے سانیا کا آدھا  حسن نہیں دیکھا ۔تو سوچا کہ اس جزیرےکی سیر کی جائے اور یوں ایک دن متعین ہو ہی گیا ۔

 

سانیا  کی صبح  روشن تھی۔شہر کے مرکزی حصے سے نکلتے ہوئے ایک گھنٹے کا سفر طے کیا ۔سڑکیں صاف، مناظر سرسبز، اور فضا میں ہلکی سی سمندری نمی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے شہر آہستہ آہستہ پیچھے رہ رہا ہو اور قدرت قریب آ رہی ہو۔

 

پھر ایک گھنٹے کی مسافت  کے بعد فیری ٹرمینل پر پہنچتے ہی منظر بدل گیا۔ لوگوں کی خاصی گہما گہمی تھی۔کوئی ٹکٹ خرید رہا تھا، کوئی تصاویر بنا رہا تھا، اور کچھ سیاح سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی باری کے منتظر تھے۔ تھوڑی دیر بعد میں ایک  فیری بوٹ  پر سوار ہوا۔ یہ سفر محض پندرہ منٹ کا تھا، مگر ہر لمحہ یادگار۔ جیسے ہی کشتی نے رفتار پکڑی، سمندر کی ٹھنڈی ہوا چہرے سے ٹکرائی اور سامنے نیلے پانیوں کا ایک وسیع منظر کھل گیا۔

 

چند ہی لمحوں  میں وہ جزیرہ سامنے تھا جسے دیکھنے کے لئے یہ سفر کیا گیا تھا ۔اس جزیرہ کو "وو ژی چو ” کہا جاتا ہے ۔ایک ایسا جزیرہ جسے دیکھ کر پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ جگہ کیوں اتنی مشہور ہے۔ اترتے ہی صاف ستھرے ماحول اور منظم نظام نے متاثر کیا۔ یہاں سیاحوں کے لیے الیکٹرک ٹرالیز موجود تھیں، جو پورے جزیرے کا چکر آسانی سے لگوا دیتی ہیں۔ میں نے بھی ایک ٹرالی کا انتخاب کیا، مگر ساتھ ساتھ پیدل چلنے کا راستہ بھی دیکھا  جو ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو ہر منظر کو ٹھہر کر محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

 

ٹرالی کے سفر کے دوران جو چیز سب سے زیادہ متاثر کن تھی، وہ یہاں کا پانی تھا۔ اتنا صاف اور شفاف کہ سمندر کی  گہرائی تک نظر جا رہی تھی۔ سمندر کے اندر موجود مخلوق آبیی مخلوق  جن میں خاص طور  پر  چھوٹی  چھوٹی مچھلیاں تھیں جن کی ہلکی ہلکی  حرکت سے  اس پانی میں موجود پر سکون آبی زندگی  واضح دکھائی دے رہی تھی ۔یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ الفاظ شاید اس خوبصورتی کو مکمل بیان نہیں کر سکتے۔

 

جزیرے پر جگہ جگہ لوگ مصروف نظر آئے۔ کچھ ساحل پر بیٹھے سکون سے منظر دیکھ رہے تھے، کچھ پانی کے قریب جا کر تصاویر بنا رہے تھے، اور کئی ایسے بھی تھے جو خاص طور پر فوٹوگرافی کے لیے آئے تھے۔ دلہن کے لباس میں ملبوس خواتین، پروفیشنل کیمروں کے ساتھ فوٹوگرافرز ،یہ سب اس بات کا ثبوت تھے کہ یہ جگہ یادگار لمحات کو قید کرنے کے لیے کتنی مقبول ہے۔

 

یہا٘ں  موجود چھوٹی دکانیں بھی توجہ کا مرکز تھیں۔ سیاح یادگاری اشیاء خرید رہے تھے، مقامی اسنیکس چکھ رہے تھے، اور اپنے سفر کو مزید رنگین بنا رہے تھے۔ مگر اس تمام ہلچل کے باوجود، جزیرے کا نظم و ضبط برقرار تھا۔ صفائی کا خاص خیال رکھا جا رہا تھا، جو اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔اس جزیرے  میں آبادی نہیں ہے اور یہ صرف سیاحت کے لئے مختص ہے ،یہی وجہ ہے کہ  یہاں عام جزیروں کی نسبت صفائی زیادہ نظر آئی اور یہ دانستہ کوشش اس جزیرے اور اس کے  پانی کو صاف رکھنے کی ایک اہم وجہ بھی ہے ۔

 

جزیرے کا یہ  سفر میرے لیے صرف ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا مشاہدہ تھا جس میں قدرت، انسان  کا نظم و ضبط اور سمندر کا سکون ایک ساتھ نظر آ یا ۔ الفاظ زیادہ ہو جائیں  یا کم لیکن یہ محسوس ہو رہاہے الفاظ اس احساس کو بیان نہیں کر سکتے  جو آنکھ کے دیکھنے سے ذہن پر نقش ہوئے اور نہ ہی اس سکون کو بیان کر سکتے ہیں جو دل کو محسوس ہوا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.