News Views Events
Apna Watan

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔حریت رہنما اور چیئرمین اتحادِ اسلامی مقبوضہ کشمیر، سید منظور احمد شاہ

0

کشمیر، نظریہ اور غلامی کے بیچ کشمکش — ایک فکری و تنقیدی جائزہ
کشمیر کی سرزمین صدیوں سے تہذیب، روحانیت اور جدوجہد کی علامت رہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں کے لوگوں نے اپنی شناخت، عقیدے اور آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو کشمیری عوام کو ان کے اصل مقصد اور نظریے سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں بیرونی طاقتوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے کمزور طبقات کو استعمال کیا۔ آج بھی کچھ حلقے ایسے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں جس میں کشمیری عوام کو اپنے عقیدے، ثقافت اور اجتماعی شعور سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان عناصر کا جھکاؤ ایک ایسے نظام کی طرف دکھائی دیتا ہے جس میں وہ طاقت کے سامنے جھکنے کو ترجیح دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں۔اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسان کو ہر قسم کی غلامی سے نجات کا درس دیا۔ اس نے انسان کو عزت، انصاف اور برابری کا پیغام دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے نہ صرف روحانی آزادی دی بلکہ سماجی انصاف کا ایسا نظام بھی قائم کیا جس میں کمزور کو بھی برابر کا حق حاصل تھا۔ اسی لیے جب کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں تو اس کے پیچھے صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی بنیاد بھی ہوتی ہے۔تاہم، آج کے حالات میں کچھ لوگ ایسے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں جو کشمیری عوام کو تقسیم کرتا ہے۔ وہ ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں جس میں عوام کو اپنی اصل شناخت سے دور کر کے ایک متبادل راستہ دکھایا جائے یہ راستہ نہ صرف ان کی تاریخ سے متصادم ہے بلکہ ان کے اجتماعی شعور کے بھی خلاف ہےیہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ عالمی سطح پر اتحاد، مفادات اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایسے میں کشمیری عوام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے شعور اور حکمت کے ساتھ فیصلے کریں۔ کسی بھی قوم کی کامیابی اس کے اتحاد، تعلیم اور فکری پختگی میں ہوتی ہے، نہ کہ محض نعروں میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری عوام اپنے اندر اتحاد پیدا کریں، اختلافات کو پسِ پشت ڈالیں اور ایک مشترکہ مقصد کے لیے آگے بڑھیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی نئی نسل کو تعلیم، شعور اور تحقیق کی طرف راغب کریں تاکہ وہ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی اصل پہچان، اصولوں اور اجتماعی مفاد کو مقدم نہ رکھے۔ کشمیری عوام کو چاہیے کہ وہ ہر اس بیانیے کو پرکھیں جو ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، اور صرف اسی راستے کا انتخاب کریں جو ان کی عزت، آزادی اور بہتر مستقبل کی ضمانت دے۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں کا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.