بیجنگ :چین کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین کی طرف سے پاکستان کے لیے تیار کی گئی "چھی لین” کلاس کی روایتی آبدوزوں میں سے پہلی آبدوز حال ہی میں چین کے شہر سانیا میں پاکستان کے حوالے کر دی گئی۔ یہ چین اور پاکستان کے درمیان معمول کے دفاعی تعاون کا حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کا واضح مظہر ہے۔ آئیے اب سمجھتے ہیں کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے "چھی لین” کلاس آبدوز کی اسٹریٹجک اہمیت کیا ہے؟ "چھی لین” ،چین کے قدیم افسانوں میں خوش بختی کی علامت سمجھا جانے والا ایک جانور ہے، جو قوم کی سلامتی و خوشحالی کی علامت مانا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے "چھی لین” کلاس کے نام سے بھی عالمی امن و ترقی کے فروغ کی امید وابستہ کی گئی ہے۔ پاکستان نے اس آبدوز کو "ہنگور” کا نام دیا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق اس آبدوز کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا جدید اے آئی پی یعنی "ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن” نظام ہے، جو چین نے خود تیار کیا ہے۔ یہ نظام آبدوز کو 14 دن تک بغیر سطحِ آب پر آئے خاموش انداز میں زیرِ آب رہنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اے آئی پی آبدوزوں کو ” سیمی نیوکلیئر آبدوز” بھی کہتے ہیں۔ آبدوز کی اسٹیلتھ صلاحیتوں میں بڑے اضافے سے مراد یہ ہے کہ دشمن کی آبدوز شکن قوتوں کے لیے اسے تلاش کرنا انتہائی مشکل بن جاتا ہے۔ یوں یہ بحر ہند کی گہرائیوں میں خاموشی سے گشت کرتے ہوئے کسی بھی وقت دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے روایتی آبدوزوں کے مقابلے میں نمایاں برتری فراہم کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، آبدوز میں بھاری ٹارپیڈو لانچر نصب ہیں، جن سے ٹارپیڈو، آبدوز سے داغے جانے والے اینٹی شپ میزائل اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل فائر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کی جانب سے تیار کردہ ‘ آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بابر 3 کروز میزائل’ کو بھی لانچ کر سکتی ہے، جس کی رینج 700 کلومیٹر ہے۔ اس طرح یہ آبدوز روایتی اور جوہری دونوں طرح سے حملہ کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے، جو اس کی اسٹریٹجک دفاعی اہمیت میں نمایاں اضافے کی علامت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تجارتی تعاون دونوں ممالک کے درمیان معمول کے عسکری تعاون کا حصہ ہے اور کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے۔ یہ چین اور پاکستان کے درمیان ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی دفاعی منڈی میں چین کی فوجی ٹیکنالوجی کی مسابقت کو مزید ظاہر کرتا ہے۔
Trending
- شاداب خان کا وائیٹیلٹی بلاسٹ کیلیے لنکاشائر سے معاہدہ
- ویبھاؤ سوریا ونشی کے دورہ انگلینڈ میں بھارتی ٹیم کے ساتھ رہنے پر پابندی
- فیفا ورلڈکپ کے دوران جعلساز فٹبال شائقین کو کیسے نشانہ بنارہے ہیں؟
- قومی اسمبلی؛ مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کے 482ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظور
- پی سی بی کا کھلاڑیوں کو تربیت کیلیے امریکا بھیجنے کا منصوبہ، مائیک ہیسن نے تصدیق کر دی
- کراچی سے براستہ دبئی چین جانے والے مسافر سے بھاری مالیت کی غیر ملکی کرنسی برآمد
- ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کراچی کے تین زونز کے انتخابات کیلیے حتمی امیدوار سامنے آگئے
- 26 نومبر احتجاج کیس؛ علیمہ خان کی وفاقی و صوبائی وزرا کی بطور گواہ طلبی کی درخواست مسترد
- فیفا ورلڈ کپ: ابتدائی دو راؤنڈز کے بعد 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر
- ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی جائیداد میں جبری مداخلت کا بل، وزیراعظم کی قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش