بیجنگ : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین میں ان کے ہمراہ امریکا کی کاروباری و صنعتی برادری کے 18 نمایاں نمائندے بھی موجود ہیں۔ ان شخصیات کا تعلق بنیادی طور پر ٹیکنالوجی، مالیات، ہوا بازی اور زرعی شعبوں سے ہے۔ ایپل، این ویڈیا، کارگیل، سٹی گروپ، گولڈمین ساکس، جنرل موٹرز اور کوالکوم سمیت متعدد بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز نے چین کی مارکیٹ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ان کاروباری رہنماؤں کی جانب سے “جدت اور توانائی ” وہ نمایاں عوامل ہیں جن کا ذکر سب سے زیادہ کیا جا رہا ہے، اور انہی کو وہ چینی معیشت کی مسلسل ترقی کا محرک قرار دیتے ہیں۔ امریکی کاروباری برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مکالمے کے ذریعے باہمی تفہیم کو فروغ دے کر تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، تاکہ دونوں بڑی معیشتیں مشترکہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکیں۔ ان کے نزدیک یہ دورہ باہمی رابطے اور تبادلۂ خیال کے لیے ایک اہم اور مؤثر موقع ہے۔
Trending
- کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے کا وطن واپسی کا اعلان
- چین سبز اور کم کاربن ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات پر عمل پیرا
- قانون کی حکمرانی سے خوبصورت چین کی تعمیر
- چین کا موسمِ گرما میں فلموں کا باکس آفس 9.6 ارب یوان سے متجاوز
- جاپانی سیاست دانوں کے اقدامات تاریخی انصاف کی کھلی توہین ہیں، چینی وزارتِ دفاع
- روس نے پوٹن کے اتوروپ جزیرے کے دورے پر جاپان کے احتجاج کو مسترد کر دیا
- جاپان کے “نئے عسکریت پسند رجحان” کی واپسی کو مضبوطی سے روکنا ضروری ، چینی میڈیا
- بنگلادیش کے کامیاب ترین بلے باز نے آسٹریلیا میں پہلا ٹیسٹ کھیل کر ریکارڈ قائم کردیا
- چینی صدر کے اہم مضمون کی چھیوشی میگزین میں اشاعت
- سونے کی قیمت میں دوسرے روز مزید کمی