حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی شوہر سے علیحدہ رہنے کا اختیار رکھتی ہے، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ حق مہر بیوی کا قانونی حق ہے جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے، اور حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی اپنے شوہر سے علیحدہ رہنے کا اختیار رکھتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نکاح کے بعد شوہر پر بیوی کی کفالت اور نان و نفقہ کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے عرفان سرفراز کی آئینی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست کو میرٹ کے بغیر خارج کر دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی آئینی یا دائرہ اختیار کی خلاف ورزی ثابت نہیں کر سکا، جبکہ شواہد کا جائزہ لینا فیملی کورٹ کا اختیار ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی شادی 2015 میں ہوئی تھی جبکہ خاتون نے 2016 میں حق مہر کے طور پر پانچ تولہ سونا، چار کنال زرعی زمین اور پانچ مرلہ تعمیر شدہ گھر کے دعوے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔
اپیلٹ کورٹ نے شوہر کو چار کنال زرعی زمین، پانچ تولہ سونا اور جہیز کے سامان کی مد میں تین لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ چار کنال اراضی کے عوض چار لاکھ روپے ادا کر چکا ہے، تاہم اس ادائیگی کے کوئی دستاویزی ثبوت یا گواہ عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کوئی سمجھ دار شخص یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ اتنی بڑی رقم بغیر رسید یا ثبوت کے ادا کی گئی ہو۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پانچ مرلہ پلاٹ کی منتقلی کی تصدیق دونوں فریقین کے وکلا نے کی، لہٰذا ماتحت عدالت کا اس حد تک دعویٰ منظور کرنا درست تھا۔
پی این پی