بیجنگ :امریکہ، فلپائن، آسٹریلیا، کینیڈا، ایسٹونیا، جرمنی، اٹلی، جاپان، لٹویا، لیتھوانیا، نیوزی لینڈ، رومانیہ، سلووینیا اور برطانیہ سمیت بعض ممالک کی جانب سے جاری کر دہ نام نہاد “جنوبی بحیرۂ چین کے ثالثی فیصلے کی دسویں برسی” کے موقع پر جاری کیے گئے مشترکہ بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ نے درج ذیل بیان جاری کیا ہے: بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلا، بحیرۂ جنوبی چین کے جزائر پر چین کی غیر متنازع خودمختاری قائم ہے، اور بحیرۂ جنوبی چین میں چین کے تاریخی حقوق بھی مسلمہ ہیں۔ چین وہ پہلا ملک ہے جس نے ان جزائر اور ان سے ملحقہ پانیوں پرمسلسل، پُرامن اور مؤثر انداز میں اپنی خودمختاری اور دائرہ اختیار استعمال کیا۔
عالمی برادری میں یہ ایک وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بحیرۂ جنوبی چین کے جزائر چین کا حصہ ہیں۔ دوسرا، بحیرۂ جنوبی چین دنیا کے محفوظ ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے، اور یہاں جہاز رانی اور فضائی پروازوں کی آزادی کبھی بھی متاثر نہیں ہوئی۔ تیسرا، چین نے 2006 میں سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے آرٹیکل 298 کے تحت باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے سمندری حدود کے تنازعات کو لازمی ثالثی کے دائرۂ کار سے خارج کر دیا تھا۔ چین علاقائی خودمختاری اور سمندری حدود سے متعلق کسی بھی ایسے تنازعے کے حل کو تسلیم نہیں کرتا جو اس پر زبردستی مسلط کیا جائے۔ چوتھا، بحیرۂ جنوبی چین سے متعلق نام نہاد ثالثی مقدمہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں، بالخصوص “ریاست کی رضامندی” اور “معاہدوں کی لازم پابندی ” کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
یہ مقدمہ سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن سے بھی متصادم ہے اور بحیرۂ جنوبی چین کے بنیادی تاریخی اور قانونی حقائق کے منافی ہے۔ پانچواں، چین متعلقہ ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ بحیرۂ جنوبی چین میں چین کی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کا حقیقی معنوں میں احترام کریں، اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بند کریں، اور بحیرہ جنوبی چین میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کریں۔