News Views Events
Apna Watan

جاپان بحیرہ جنوبی چین کے تنازعات کا براہِ راست فریق نہیں، چینی وزارت خارجہ

0

بیجنگ : جاپانی وزیر خارجہ توشیمتسو موتیگی نے نام نہاد “بحیرۂ جنوبی چین کے ثالثی کے فیصلے” کی دسویں برسی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے چین کے جائز مؤقف پر تنقید کی اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ جاپان بحیرہ جنوبی چین کے معاملات میں ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔

پیر کے روز اس پر ردِعمل دیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین جاپان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جاپان بحیرہ جنوبی چین کے تنازعات کا براہِ راست فریق نہیں، اس لیے اسے خطے میں چین کی علاقائی خودمختاری، سمندری حقوق اور مفادات پر رائے دینے یا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ترجمان کے مطابق بحیرہ جنوبی چین کے جزائر پر چین کی خودمختاری اور متعلقہ سمندری حقوق مضبوط تاریخی اور قانونی شواہد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی اصل تشویش بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں، بلکہ بحیرہ جنوبی چین کے معاملات میں مداخلت اور خطے میں کشیدگی پیدا کرنا ہے۔

چین نے جاپان پر زور دیا کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات اور تنقید سے گریز کرے، بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر اختلافات کو ہوا دینا بند کرے اور خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے باز رہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور چین کے جائز حقوق کو چیلنج کرنے یا بحیرہ جنوبی چین کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش یقیناً ناکام ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.