بشکیک :(چائںا ڈیسک ) چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور علاقائی انسدادِ دہشت گردی ادارے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔وانگ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تھیان جن سربراہی اجلاس میں آئندہ دس برسوں کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی گئی، جس کے ساتھ تنظیم اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ ہے۔ تنظیم نے اپنے ابتدائی دور میں چھ ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں عسکری اعتماد سازی اور “تین قوتوں” کے خلاف تعاون سے آغاز کیا تھا، جبکہ آج 27 ممالک اور دنیا کی تقریباً نصف آبادی 50 سے زائد شعبوں میں باہمی تعاون کر رہی ہے، جس سے نئے طرز کے بین الاقوامی تعلقات اور کثیرالجہتی تعاون کی راہ مزید وسیع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس برسوں کی ترقیاتی حکمتِ عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ رکن ممالک مزید قریبی تعاون کو فروغ دیں گے تاکہ زیادہ جمہوری اور منصفانہ کثیر قطبی دنیا کے قیام میں مزید مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔وانگ ای نے تنظیم کی آئندہ پیش رفت کے لیے چار تجاویز پیش کیں ، جن میں،”شنگھائی اسپرٹ” کو بنیادی رہنما اصول کے طور پر مضبوطی سے اپنانا ، امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مضبوط حصار قائم کرنا ، مشترکہ ترقی اور باہمی فائدے کی نئی قوت پیدا کرنا اور گلوبل گورننس کے لیے ایک مثالی نمونہ تشکیل دینا شامل ہیں۔اجلاس کے موقع پر وانگ ای نے پاکستان ،روس، بیلاروس، ازبکستان، تاجکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔