امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جاپانی ین کی قدر کو سہارا دینے کے لیے جاپان کے مرکزی بینک نے حالیہ غیر ملکی زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کے دوران تقریباً 87 ارب امریکی ڈالر، یعنی 11 ٹریلین ین خرچ کیے ہیں۔رواں سال کے آغاز سے جاپانی ین مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور اس کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔جاپان کی وزارتِ خزانہ نے 3 اگست کو جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ 31 جولائی کو جاپان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر مارکیٹ میں ین کی خریداری کی تاکہ اس کی قدر کو سہارا دیا جا سکے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ اگر مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار رہا تو حکومت مزید مداخلت کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتی۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کی جانب سے جاپان کے ساتھ مل کر ین کی حمایت کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، تاہم اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ین کی قدر میں ہونے والا اضافہ کتنے عرصے تک برقرار رہ سکے گا۔
Trending
- سونے کی قیمتوں میں آج معمولی کمی
- چین میں انسدادِ دہشت گردی پر بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد
- چین کی سروس ٹریڈ کا مجموعی حجم 3,779.75 بلین یوآن تک پہنچ گیا
- عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے چین کا مربوط نقطۂ نظر
- چین، شنگھائی میں ٹیکس ریفنڈ درخواستوں میں تقریباً تین گنا اضافہ
- چین کی لاجسٹکس صنعت کا خوشحالی انڈیکس توسیع کی حد میں برقرار
- روسی پیسیفک فلیٹ کی بڑے پیمانے پر بحری مشق کا آغاز
- مصر، قطر اور ترکیہ کا مشترکہ بیان، غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
- جاپان نے ین کو سہارا دینے کے لیے 87 ارب ڈالر خرچ کر دیے
- امریکہ کا ایران سے مذاکرات کا دعویٰ، تہران کی تردید