امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی عارضی طور پر روکنے کے اعلان کے ایک روز سے بھی کم وقت بعد انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 3 اگست کو مذاکرات ہوں گے، تاہم اس دعوے کو ایران نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ دو مرحلوں میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے کا مقصد آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر بات ہوگی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کسی قسم کی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 3 اگست کو واضح کیا کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، نہ ہی آئندہ چند روز میں کسی وفد کو بھیجنے یا کسی غیر ملکی وفد کے استقبال کا کوئی منصوبہ ہے۔بقائی نے مزید بتایا کہ فی الحال ایران صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مشاورت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نئے انتظامات کے سلسلے میں ایران اور عمان کے درمیان نئے بحری راستوں کے تعین سے متعلق پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
Trending
- سونے کی قیمتوں میں آج معمولی کمی
- چین میں انسدادِ دہشت گردی پر بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد
- چین کی سروس ٹریڈ کا مجموعی حجم 3,779.75 بلین یوآن تک پہنچ گیا
- عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے چین کا مربوط نقطۂ نظر
- چین، شنگھائی میں ٹیکس ریفنڈ درخواستوں میں تقریباً تین گنا اضافہ
- چین کی لاجسٹکس صنعت کا خوشحالی انڈیکس توسیع کی حد میں برقرار
- روسی پیسیفک فلیٹ کی بڑے پیمانے پر بحری مشق کا آغاز
- مصر، قطر اور ترکیہ کا مشترکہ بیان، غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
- جاپان نے ین کو سہارا دینے کے لیے 87 ارب ڈالر خرچ کر دیے
- امریکہ کا ایران سے مذاکرات کا دعویٰ، تہران کی تردید
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔