News Views Events
Apna Watan

اے آئی پلس ٹرانسپورٹیشن: چین کے سفری نظام کے لیے نئے اقدامات

0

 

اعتصام الحق

مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر، موبائل فون یا صنعتی روبوٹ تک محدود نہیں رہی۔ دنیا بھر میں یہ ٹیکنالوجی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو بدل رہی ہے اور ٹرانسپورٹ ان شعبوں میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ چین نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ٹرانسپورٹ کے وسیع نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ’’اے آئی پلس ٹرانسپورٹیشن‘‘ ایکشن پلان شروع کیا ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی منصوبہ نہیں بلکہ چین کی پوری ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو زیادہ ذہین، مؤثر اور ڈیجیٹل بنانے کی کوشش ہے۔

چین کی وزارتِ مواصلات کے مطابق اس منصوبے کے تحت ذہین ڈرائیونگ، سمارٹ شاہراہوں، ذہین ریلوے، سمارٹ سول ایوی ایشن اور سمارٹ نقل و حمل سمیت دس بڑے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ 41 اہم اطلاقی منظرناموں کے لیے رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں جبکہ پائلٹ منصوبوں کا پہلا مرحلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کو تجربہ گاہوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے حقیقی دنیا کے بڑے پیمانے پر استعمال میں لانا چاہتا ہے۔

اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ چین کا ٹرانسپورٹ نظام دنیا کے سب سے بڑے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک میں تیز رفتار ریلوے کا وسیع نیٹ ورک، اربوں مسافروں کو خدمات فراہم کرنے والا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ، مصروف بندرگاہیں، شاہراہیں، ہوائی اڈے اور وسیع اندرونِ ملک آبی راستے موجود ہیں۔ اتنے بڑے نظام میں معمولی بہتری بھی کروڑوں لوگوں اور کاروباری اداروں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

چین پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے تقریباً 860 ٹرانسپورٹ سے متعلق منظرناموں میں استعمال کی بات کر رہا ہے۔ ان میں بنیادی ڈھانچے کی نگرانی، گاڑیوں اور آلات کا انتظام، مسافروں کے لیے خدمات اور صنعتی نظم و نسق شامل ہیں۔ ریلوے اس سلسلے میں ایک نمایاں مثال ہے۔ تیز رفتار ٹرینوں کے آپریشن، ذہین کنٹرول اور خودکار آپریشن سے متعلق ٹیکنالوجیز پر تحقیق اور پائلٹ منصوبے جاری ہیں۔ اگر یہ تجربات بڑے پیمانے پر کامیاب ہوتے ہیں تو ٹرینوں کی حفاظت، توانائی کے استعمال، دیکھ بھال اور وقت کی پابندی میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔

دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اے آئی اور ٹرانسپورٹ کے امتزاج کو مستقبل کی اہم سمت سمجھا جا رہا ہے۔ امریکہ میں خودکار ڈرائیونگ اور اے آئی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ پر کام ہو رہا ہے، یورپ میں سمارٹ موبیلٹی اور کم کاربن ٹرانسپورٹ پر زور ہے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک روبوٹکس، ریلوے اور شہری نقل و حمل میں ذہین ٹیکنالوجیز استعمال کر رہے ہیں۔ اس عالمی تجربے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ٹرانسپورٹ میں اے آئی کا استعمال کوئی غیر حقیقی تصور نہیں، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار ٹیکنالوجی، قوانین، ڈیٹا، بنیادی ڈھانچے اور عوامی اعتماد کے درمیان توازن پر ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں چین کے منصوبے کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو ٹرانسپورٹ میں استعمال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر درست اور معیاری ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ چین کی وزارتِ مواصلات اور قومی ڈیٹا انتظامیہ کی جانب سے اعلیٰ معیار کے صنعتی ڈیٹا وسائل تیار کرنے اور تین سے پانچ برس میں ایک جامع ڈیٹا نقشہ بنانے کا منصوبہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ بہتر ڈیٹا اے آئی نظاموں کو زیادہ درست فیصلے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

لیکن اس نظام کے سامنے چیلنجز بھی کم نہیں۔ خودکار گاڑی یا ٹرین کے غلط فیصلے کے نتائج کسی عام ڈیجیٹل سروس کی خرابی سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ سائبر سکیورٹی، مسافروں کے ڈیٹا کا تحفظ، مشین کے فیصلوں کی ذمہ داری اور ہنگامی حالات میں انسانی مداخلت جیسے سوالات کا جواب دینا ضروری ہوگا۔ دنیا بھر میں اے آئی پر بڑھتی ہوئی بحث بھی یہی بتاتی ہے کہ صرف ٹیکنالوجی دستیاب ہونا کافی نہیں؛ اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مضبوط قواعد بھی درکار ہیں۔

چین کی ایک بڑی طاقت اس کا وسیع صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کا حجم ہے۔ اگر ایک کامیاب اے آئی نظام کو کسی ایک شہر، ریلوے لائن یا بندرگاہ میں آزمایا جائے اور اس کے نتائج اچھے ہوں تو اسے ملک کے دوسرے حصوں میں نسبتاً تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہی ’’پائلٹ سے بڑے پیمانے پر توسیع‘‘ کا ماڈل چین کی ممکنہ کامیابی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

چین نے 2030 تک ٹرانسپورٹ صنعت میں متعدد بڑے ماڈلز کی تعیناتی کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ٹرانسپورٹ کے کارکن اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کریں گے، بلکہ بڑے ماڈلز ٹریفک کے بہاؤ، مسافروں کی طلب، آلات کی دیکھ بھال، راستوں کی منصوبہ بندی اور صنعتی انتظام جیسے پیچیدہ کاموں میں معاون بن سکتے ہیں۔

اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیز اور زیادہ قابلِ اعتماد لاجسٹکس صنعتی پیداوار اور تجارت کو فائدہ پہنچائے گی، بہتر ٹریفک مینجمنٹ شہری زندگی کو آسان بنائے گا اور توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال سے اخراج میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یوں ’’اے آئی پلس ٹرانسپورٹیشن‘‘ چین کے لیے صرف ایک نئی ٹیکنالوجی آزمانے کا منصوبہ نہیں بلکہ صنعتی تبدیلی کا ایک بڑا تجربہ ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں، مگر چین کے پاس اپنے وسیع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، صنعتی صلاحیت، ڈیٹا وسائل اور بڑے پیمانے پر پائلٹ منصوبوں کی وجہ سے ایک منفرد موقع موجود ہے۔ اگر چین ٹیکنالوجی کے ساتھ حفاظت، ضابطے کی تیاری اور انسانی نگرانی کو بھی مناسب اہمیت دیتا ہے تو آنے والے برسوں میں چین کا ٹرانسپورٹ نظام دنیا میں مصنوعی ذہانت کے صنعتی استعمال کا ایک اہم ماڈل بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.