تحریر : فیصل شامی
ایڈیٹر روزامہ یلغار
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام ایک ایسا موضوع ہے جو وقتاً فوقتاً سیاسی منظرنامے پر ابھرتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس بحث نے ایک بار پھر شدت اختیار کی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مرتبہ اس بحث کو حکومتی صفوں سے بھی آواز ملی ہے۔
وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی ضرورت کی بات کی تو سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔ تاہم اس معاملے میں حکومت کی بڑی اتحادی جماعتوں کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح اور بھرپور سیاسی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کی آواز نسبتاً نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
مسلم لیگ (ق) اس وقت وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی قیادت میں اس معاملے کو آگے بڑھاتی نظر آ رہی ہے۔ چوہدری سالک حسین، چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے ہیں۔ سیاست میں ان کا سفر نسبتاً مختصر ضرور ہے، لیکن اس عرصے میں انہوں نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ ان کا انداز سیاست محتاط، متین اور کم گو ہے، مگر ان کی گفتگو میں ایک خاص گہرائی محسوس ہوتی ہے۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ وہ سیاسی تربیت بھی ہے جو انہیں اپنے والد چوہدری شجاعت حسین جیسے تجربہ کار سیاستدان کے گھر میں ملی۔
چوہدری شجاعت حسین پاکستان کی سیاست میں ایک ایسے نام کے طور پر جانے جاتے ہیں جن سے مختلف سیاسی حلقے مشاورت اور رہنمائی لیتے رہے ہیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، میڈیا ہو یا دیگر سیاسی قوتیں، ان کی سیاسی بصیرت اور مفاہمانہ طرز سیاست کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ اب ان کے صاحبزادے اسی سیاسی ورثے کو اپنے انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ چوہدری سالک حسین کے ساتھ پنجاب میں چوہدری شافع حسین بھی سیاسی اور حکومتی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ پنجاب کی صنعتوں کی بحالی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے ان کی کوششیں بھی زیر بحث رہی ہیں۔ یوں چوہدری شجاعت حسین کی سیاسی میراث کی اگلی نسل مختلف میدانوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
لیکن نئے صوبوں کی بحث کو صرف مسلم لیگ (ق) کی قیادت تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اس معاملے پر نوجوانوں میں بحث اور رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مسلم لیگ یوتھ کے متحرک رہنما کامران سعید عثمانی نے آل پاکستان یوتھ لیڈرشپ کانفرنس کے ذریعے اس بحث کو نوجوان نسل تک لے جانے کی کوشش کی۔ کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی اور نئے صوبوں و انتظامی یونٹس کے قیام کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔
کامران سعید عثمانی اس سے قبل بھی نوجوانوں اور طلبہ تنظیموں کے حوالے سے متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اب مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے ان کی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جماعت اپنی سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔
تاہم مسلم لیگ (ق) کے موجودہ سیاسی سفر میں ایک اور نام ایسا ہے جس کا ذکر کیے بغیر اس جماعت کے میڈیا اور ابلاغی کردار کی کہانی شاید مکمل نہ ہو۔ وہ نام ہے غلام مصطفیٰ ملک کا۔
ملک مصطفیٰ کا تعلق وطن عزیز کے اعوان قبیلہ سے ہے وفاداری اور محبت اس کی شناخت ہے، اوائل جوانی میں مجھے انکے ساتھ کام کرنے ، بے شمار دفعہ سفر کرنے اور کئی ماہ و سال اکٹھا رہنا نصیب ہوا، وہ ہمارے گھر کے فرد کی طرح ہیں ، انہوں نے جس سے یاری بنائی وہ نبھا کر دکھائی
غلام مصطفیٰ ملک ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ق) کے مشکل ادوار میں بھی جماعت کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا۔ صحافت سے وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے ایک وقت میں ایک بڑے اخبار کے بیورو چیف، کالم نگار اور ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کا کالم بھی خاصا پڑھا جاتا تھا۔ لیکن ایک مرحلے پر انہوں نے اپنی صحافتی شناخت اور پیشہ ورانہ مصروفیات کو محدود کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے لیے اپنی سیاسی و ابلاغی خدمات کو ترجیح دی۔
یہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔ صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں برسوں کی محنت سے مقام بنتا ہے، اور اسے چھوڑ کر سیاسی جماعت کے لیے کام کرنا اپنے اندر ایک بڑی قربانی رکھتا ہے۔ غلام مصطفیٰ ملک نے نہ صرف جماعت کے ساتھ وقت گزارا بلکہ پارٹی کے مشکل ادوار میں بھی اپنا کردار جاری رکھا۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ زیادہ شور شرابے کے بجائے خاموشی سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نرم مزاج، دھیمے لہجے اور کم گوئی کے باوجود اپنی بات پر قائم رہنا ان کی سیاسی شناخت کا حصہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے اندر اور باہر انہیں ایک ایسے کارکن اور رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے جماعت کے ساتھ مشکل وقت میں بھی فاصلہ نہیں بنایا۔
مصطفیٰ اعوان کو اپنی جماعت میں وہ پذیرائی نہیں ملی مگر اس کے باوجود انکی جدوجہد میں کبھی نہیں آئی
سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں ایسے کردار اکثر پس منظر میں رہ جاتے ہیں۔ شہ سرخیوں میں وہ لوگ آتے ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہیں، مگر جماعتوں کے مشکل وقت میں وہی لوگ اصل سرمایہ ثابت ہوتے ہیں جو بغیر کسی فوری فائدے کے اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے لیے آج کا وقت بھی ایک نئے سیاسی مرحلے کی ابتدا ہوسکتا ہے۔ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ اگر سنجیدہ سیاسی بحث میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے لیے محض سیاسی نعروں کے بجائے آئینی، انتظامی، معاشی اور عوامی پہلوؤں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ نئے صوبوں کی تشکیل صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ وسائل کی تقسیم، انتظامی ڈھانچے، نمائندگی، مالیاتی اختیارات اور عوامی سہولت جیسے بنیادی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) اگر اس بحث کو آگے بڑھاتی ہے تو اسے ایک وسیع قومی مکالمے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں چوہدری سالک حسین کی سیاسی حکمت عملی، چوہدری شجاعت حسین کی مفاہمتی سیاست کا تجربہ، نوجوان قیادت کی توانائی اور پارٹی کے ابلاغی کردار کو ایک سمت میں لایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں جماعتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، البتہ ان کے سیاسی اثرات کم اور زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) بھی گزشتہ کچھ عرصے میں پارلیمانی سیاست میں ایک محدود قوت کے طور پر دکھائی دیتی رہی ہے، مگر موجودہ حالات میں نئے انتظامی یونٹس، نوجوانوں کی سیاست اور عوامی مسائل جیسے موضوعات اسے دوبارہ متحرک ہونے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ محض ایک سیاسی بحث ہے یا مسلم لیگ (ق) واقعی ایک نئے سیاسی سفر کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ نئے صوبوں کا موضوع اب دوبارہ قومی سیاسی گفتگو کا حصہ بن رہا ہے، اور اس بحث میں مسلم لیگ (ق) اپنی آواز نمایاں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شاید یہ واقعی ایک نئی سیاسی انگڑائی کی ابتدا ہے۔اور اگر مسلم لیگ ق اپنے پتے صحیج کھیل گئی تو آنے والا کل صرف مسلم لیگ ق کا ہو گا