نیویارک (شِنہوا) کوہن فاؤنڈیشن کے چیئرمین رابرٹ لارنس کوہن نے کہا ہے کہ مورخین چین کے مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کو “ہمارے دور کے لیے اہمیت کی حامل شے” قرار دیں گے۔
بیلٹ اینڈ روڈ کی 10 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون سے قبل کوہن نے شِنہوا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ آج سے ایک ہزار سال بعد مورخین پیچھے مڑ کر دیکھیں گے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو ہمارے دور کے لیے اہمیت کی حامل قرار دیں گے۔
کوہن نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ ایک “بنیادی” شراکت ہے جسے چین نے دنیا کے سامنے پیش کیا ۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے اسے ایک بین الاقوامی نقطہ نظر کے طور پر فروغ دیا اور اس میں ایک قابل ذکر اور انتہائی ضروری عنصر موجود ہے۔
کوہن نے اس سے قبل 2014 اور 2015 میں بالترتیب “نئی شاہراہ ریشم اقتصادی پٹی ” اور “21 ویں صدی کی سمندری شاہراہ ریشم ” کے موضوع پر منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنسز سے خطاب کیا تھا۔
کوہن نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو چین کے منفرد تجربے اور مسابقتی فوائد حاصل ہیں جس کی ترقی پذیر ممالک کو اشد ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ایک بنیاد ہے ۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس ریل، تیز رفتار ریل، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، ٹیلی مواصلات، بجلی گھروں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اتنا تجربہ نہیں ہے جو چین کے پاس ہے۔
Trending
- چین میں انسدادِ دہشت گردی پر بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد
- چین کی سروس ٹریڈ کا مجموعی حجم 3,779.75 بلین یوآن تک پہنچ گیا
- عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے چین کا مربوط نقطۂ نظر
- چین، شنگھائی میں ٹیکس ریفنڈ درخواستوں میں تقریباً تین گنا اضافہ
- چین کی لاجسٹکس صنعت کا خوشحالی انڈیکس توسیع کی حد میں برقرار
- روسی پیسیفک فلیٹ کی بڑے پیمانے پر بحری مشق کا آغاز
- مصر، قطر اور ترکیہ کا مشترکہ بیان، غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
- جاپان نے ین کو سہارا دینے کے لیے 87 ارب ڈالر خرچ کر دیے
- امریکہ کا ایران سے مذاکرات کا دعویٰ، تہران کی تردید
- امریکہ کی 25 ریاستوں کا نئی ٹیرف پالیسی کے خلاف مقدمہ، وفاقی حکومت پر اختیارات سے تجاوز کا الزام