بیجنگ: چین میں تین روز جاری رہنے والے بحث و مباحثے کے بعد فلسطینی تنظیموں حماس اور الفتح سمیت 14 دیگر دھڑوں کے درمیان اختلافی امور پر معاملات طے پا گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کی ثالثی میں فلسطینی جماعتوں کے 16 دھڑوں کے درمیان اختلافات ختم کرانے کے لیے مذاکرات 21 سے 23 جولائی تک جاری رہے۔
مذاکرات میں حماس اور الفتح نے بھی شرکت کی۔ فریقین نے آپس میں اختلافات کو ختم کرکے اتحاد اور اتفاق کو مضبوط اور برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ثالث اور فریقین کی جانب سے مذاکرات کے کامیاب ہونے کا اعلان تو کیا گیا ہے تاہم اب تک نہ تو اعلامیہ سامنے آیا ہے اور نہ یہ واضح ہے کن نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غزہ میں اس وقت اسرائیلی جارحیت عروج پر ہے۔ حماس اور الفتح کے درمیان اختلافات 17 سالہ ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں بھی حماس اور فتح کے رہنما چین میں جمع ہوئے تھے لیکن وہ بے نتیجہ ثابت ہوئے تھے۔
فلسطین میں 2006 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس نے غزہ میں حکومت بنائی جب کہ مغربی کنارے میں الفتح گروپ کی حکومت ہے۔
Trending
- مہنگائی پر ہفتہ وار رپورٹ جاری، کونسی چیز سب سے زیادہ مہنگی ہوئی؟
- ایشین گیمز: پاکستان ویمنز ٹیم نے کوارٹر فائنل میں تھائی لینڈ کو شکست دے دی
- اب ہمارا فوکس ایڈ نہیں، ٹریڈ ہے: محمد اورنگزیب
- سعودعی عرب کو جدید ایف 35 جنگی طیارے دینے کی راہ ہموار، امریکا نے منظوری دے دی
- ایشین گیمز میں ایتھلیٹس کی رہائش پر شدید تنقید
- فلپائن فوری طور پر چین کے قانونی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیز اقدامات بند کرے، چائنا کوسٹ گارڈ
- یورپ میں چینی کمپنیوں کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے چین ضروری اقدامات کرےگا، چینی وزارت خارجہ
- جاپانی عسکریت پسندی کو دوبارہ ابھرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی،چینی وزارت خارجہ
- چین کی جانب سے سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی کوشش کی مخالفت
- چین اور امریکہ کے مابین مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال