غزہ:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی قیادت مصر سے حاصل کردہ غزہ جنگ بندی کی نئی تجویز کا مطالعہ کر رہی ہے اور ضروری مشاورت کرکے تجویز کا جلد از جلد جواب دےگی۔
قطر ی ٹی وی الجزیرہ نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ جنگ بندی کی تازہ ترین تجاویز میں تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان 45 دنوں کے لیے عارضی فائر بندی، فائربندی کے پہلے ہفتے میں غزہ میں امدادی سازو سامان کے داخلے کی اسرائیلی اجازت کے بدلے حماس کی جانب سے آدھے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور فائربندی ختم ہونے سے پہلے حماس کی جانب سے تمام زندہ اور مردہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تجاویز میں واضح مطالبہ کیا گیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے۔
فلسطینی میڈیا "القدس الشریف” نے 14 تاریخ کی شام حماس کے سینئر رہنما سمیع ابو زہری کی جانب سے جاری کردہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ناقابل قبول اور ناقابل بحث ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے فائر بندی معاہدے کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ناممکن شرائط پیش کی ہیں۔