واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے "پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کے ردعمل میں شروع کی گئی قانونی چارہ جوئی کے جواب میں، امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ فیڈرل ڈسٹرکٹ ججوں کو اس اقدام کےملک بھر نفاذ کو روکنےکا کوئی حق نہیں ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس ایگزیکٹو آرڈر کو روکنا کانگریس کی طرف سے فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹس کو دیئے گئے اختیارات سے باہر ہے۔قدامت پسندوں کے زیر کنٹرول امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست کو 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے منظور کر لیا، جس سے فیڈرل ڈسٹرکٹ جج کا دائرہ اختیار صرف ان ریاستوں، گروہوں اور افراد پر لاگو کرنے تک محدود کر دیا گیا جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ تاہم، اس فیصلے میں یہ شامل نہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کا "پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر خود غیر آئینی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات غیر آئینی ہیں۔ امریکی میڈیا کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے "پیدائشی حق شہریت” کو ختم کرنے کے لیے بتدریج اقدامات کرنے کے لیے سازگار ہے۔
Trending
- وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا قومی کھیل ہاکی کی بحالی کیلئے بڑا اقدام
- اداکارہ مومنہ اقبال اور مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں، رمشا اقبال
- پنجاب حکومت کا 500 ارب روپے ریونیو ہدف، 12 اداروں سے سرکاری پراپرٹیز کی تفصیلات طلب
- کراچی میں شدید گرم و مرطوب موسم برقرار، پارہ 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- افریقی فٹبال ریفری کو امریکا نے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا، وطن واپسی پر شاندار استقبال
- رومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس گزر گئے
- بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
- عالمی انسانی حقوق گورننس میں چین کا ذمہ دارانہ کردار ہے، چینی میڈیا
- جاپان نے نام نہاد "امن پسند ملک”کا نقاب خود ہی اتار لیا ہے،چینی وزارت خارجہ
- چین، 2026 عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے اعلی سطحی فورم کا انعقاد