واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے "پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کے ردعمل میں شروع کی گئی قانونی چارہ جوئی کے جواب میں، امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ فیڈرل ڈسٹرکٹ ججوں کو اس اقدام کےملک بھر نفاذ کو روکنےکا کوئی حق نہیں ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس ایگزیکٹو آرڈر کو روکنا کانگریس کی طرف سے فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹس کو دیئے گئے اختیارات سے باہر ہے۔قدامت پسندوں کے زیر کنٹرول امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست کو 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے منظور کر لیا، جس سے فیڈرل ڈسٹرکٹ جج کا دائرہ اختیار صرف ان ریاستوں، گروہوں اور افراد پر لاگو کرنے تک محدود کر دیا گیا جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ تاہم، اس فیصلے میں یہ شامل نہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کا "پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر خود غیر آئینی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات غیر آئینی ہیں۔ امریکی میڈیا کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے "پیدائشی حق شہریت” کو ختم کرنے کے لیے بتدریج اقدامات کرنے کے لیے سازگار ہے۔
Trending
- پاکستان فری لانسر ایسوسی ایشن کا حکومت اور انٹرنیٹ کمپنیوں سے تیز رفتار انٹرنیٹ فراہمی کا مطالبہ
- کراچی پریس کلب کا نئے ممبران کو الاٹ کیے گئے پلاٹس کی جگہ کا دورہ
- چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر بچوں کے گالا کا انعقاد
- ہائی نان میں مقیم پاکستانی طالبہ چین-پاکستان ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لئے سرگرم
- علامہ اقبال کی فکر ہمارے لیے آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے، فوزیہ ناز
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
- لاہور میں کفایت شعاری مہم کی مبینہ خلاف ورزی
- سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالرز کے فنڈز موصول
- پاکستان ایران امریکا تنازعہ کے مذاکرات کے ذریعے حل کا داعی ہے، محسن نقوی
- مصطفیٰ ملک کی سالگرہ،پارٹی راہنمائوں کے ساتھ مل کر کیک کاٹا