واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے “پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کے ردعمل میں شروع کی گئی قانونی چارہ جوئی کے جواب میں، امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ فیڈرل ڈسٹرکٹ ججوں کو اس اقدام کےملک بھر نفاذ کو روکنےکا کوئی حق نہیں ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس ایگزیکٹو آرڈر کو روکنا کانگریس کی طرف سے فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹس کو دیئے گئے اختیارات سے باہر ہے۔قدامت پسندوں کے زیر کنٹرول امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست کو 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے منظور کر لیا، جس سے فیڈرل ڈسٹرکٹ جج کا دائرہ اختیار صرف ان ریاستوں، گروہوں اور افراد پر لاگو کرنے تک محدود کر دیا گیا جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ تاہم، اس فیصلے میں یہ شامل نہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کا “پیدائشی حق شہریت” کو محدود کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر خود غیر آئینی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات غیر آئینی ہیں۔ امریکی میڈیا کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے “پیدائشی حق شہریت” کو ختم کرنے کے لیے بتدریج اقدامات کرنے کے لیے سازگار ہے۔
Trending
- 11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستان کا خصوصی اسٹال، تجارتی، سرمایہ کاری مواقع کی نمائش
- پیٹرول اور ڈیزل آج پھر مہنگا کردیا گیا
- 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتا دیا
- بنگلادیش میں خسرے کی بدترین وبا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی
- گڈز فاروڈنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- پیاز کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سامنے آ گئی
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر