بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں جاپان اور فلپائن کے درمیان مخصوص اقتصادی زون کے قیام اور براعظم کی سر حد بندی کے مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جاپان اور فلپائن کے اعلان کردہ حد بندی والے متوقع سمندری علاقے چین کےجزیرہ تائیوان کے مشرق میں واقع ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کے داخلی اور عالمی قوانین بشمول “اقوام متحدہ کے سمندر کے قانون کے کنونشن” کے مطابق، چین کو اس آبی علاقے میں مخصوص اقتصادی زون اور “کانٹینینٹل شیلف” سمیت حدود کا حق حاصل ہے۔ جاپان اور فلپائن نے بلا اجازت نام نہاد سمندری حدود کے مذاکرات شروع کیے، جو چینی سمندری حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے اور عالمی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں بشمول “اقوام متحدہ کے سمندرکے قانون کے کنونشن” کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اس کی شدید مخالفت کی ہے اور اس حوالے سےجاپان اور فلپائن کو سخت احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ چین واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ جاپان اور فلپائن کے نام نہاد ” سمندری حد بندی مذاکرات” بالکل غیر قانونی اور بے بنیاد ہیں اور یہ چین کے جزیرہ تائیوان کے مشرق میں چینی حقوق اور قانونی مفادات پر کوئی اثر نہیں ڈال سکیں گے۔ چین جاپان اور فلپائن پر زور دیتا ہے کہ وہ فوراً چینی سمندری حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی سے باز رہیں اور علاقے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات اختیار کریں ۔
Trending
- 11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستان کا خصوصی اسٹال، تجارتی، سرمایہ کاری مواقع کی نمائش
- پیٹرول اور ڈیزل آج پھر مہنگا کردیا گیا
- 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتا دیا
- بنگلادیش میں خسرے کی بدترین وبا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی
- گڈز فاروڈنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- پیاز کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سامنے آ گئی
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر