بیجنگ :امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا نے چین کی مصنوعی ذہانت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین نے ایسا قابلِ تقلید نظام تشکیل دے دیا ہے، جس کے تحت عالمی معیار کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ دراصل چین میں “پیمانے پر جدت” کی زندہ تصویر ہے۔ آج “پیمانے پر جدت” عالمی صنعتی تبدیلی کا ایک اہم محرک بن چکی ہے۔ بین الاقوامی حلقوں میں عمومی طور پر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ چین نے اپنی وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام، تیز رفتار صنعتی تبدیلی کی صلاحیت اور کھلے تعاون پر مبنی ماحولیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس اہم شعبے میں دنیا کے لیے قیمتی تجربات اور بصیرت فراہم کی ہے۔ حال ہی میں جنوبی کوریا کی ایشیا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ چین نہ صرف اپنی معیشت کی تبدیلی اور ترقی کے عمل کو تیز کر رہا ہے بلکہ عالمی معیشت کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ مسلسل جاری “جدت کا فائدہ” دراصل “چائنا اپرچونٹی 2.0” کی ایک واضح مثال ہے۔جدت لوگوں کی بہتر زندگی کی خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔یورپ کو ایئر کنڈیشنرز سمیت گرمی سے بچاؤ کی مصنوعات کی برآمد سے لے کر جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت تک، اور علاج کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے والی نئی ادویات کی دستیابی تک، چینی جدت کے ثمرات دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو ترقی کے مواقع سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ تخمینوں کے مطابق، 2012 سے 2025 کے درمیان چینی کمپنیوں نے 24 ترقی پذیر معیشتوں میں مقامی برآمدات کی قدر میں تقریباً پانچ گنا اضافہ کیاہے۔چین کی جدت دنیا کے لیے دھچکا ہے یا موقع؟ اس کا جواب حقائق پہلے ہی دے چکے ہیں۔ بعض مغربی ممالک کی جانب سے چین کو بدنام کرنے اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں اسے اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے جدت کا عمل جاری رکھنے اور کھلے تعاون کے ذریعے مختلف ممالک کی مشترکہ ترقی کو فروغ دینے سے نہیں روک سکتیں۔ چین “چائنا اپرچونٹی 2.0 ” کے ذریعے عالمی ترقی میں مزید نئی توانائی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
Trending
- امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کا اقتصادی بحران مزید سنگین کر دیا: ٹرمپ
- شام اور روس کے درمیان دو روسی فوجی اڈوں سے متعلق مفاہمت کی یادداشت طے پا گئی
- ناگاساکی پر جوہری حملے کی 81ویں برسی، جاپانی شہریوں کی سانائے تاکائیچی انتظامیہ کے خلاف ریلی
- جولائی میں 3.6 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر موصول، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اظہارِ اطمینان
- معاہدہ مکہ نیک شگون، ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم
- امریکی اے آئی گورننس انتہائی حد تک متضاد ہو چکی ہے ، چینی میڈیا
- چین “چائنا اپرچونٹی 2.0″کے ذریعے عالمی ترقی میں مزید نئی توانائی فراہم کرتا رہے گا، چینی میڈیا
- چین، شینزن میں اپیک سمٹ 2026 میں صرف 100 دن باقی
- کچی رسیدوں کے اجراء پر پابندی عائد، خلاف ورزی پر لاکھوں روپے جرمانہ ہو گا
- راولپنڈی؛ منشیات کے عادی افراد نے جھگڑے کے دوران شہری کو آگ لگا دی