اسلام آباد:وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور سبز ترقی کے ایجنڈے پر پُرعزم انداز میں عمل پیرا ہے، پاکستان دنیا کے اُن دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں حالانکہ ہمارا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنوبی کوریا کےدارالحکومت سیول میں منعقدہ تین روزہ گلوبل گرین گروتھ انسٹیٹیوٹ کی 14ویں اسمبلی اور اٹھارویں کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے کم کاربن ترقیاتی راستوں اور موسمیاتی لچکدار پالیسیوں کے نفاذ میں قائدانہ کردار کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور سبز ترقی کے ایجنڈے پر پُرعزم انداز میں عمل پیرا ہے۔ یہ اجلاس 29 تا 31 اکتوبر تک جاری رہا۔
اجلاس میں نیوزی لینڈ، ناروے، سری لنکا، سینیگال، سویڈن اور زیمبیا سمیت مختلف ممالک کے سرکاری نمائندگان، ماہرینِ موسمیات، بین الاقوامی اداروں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان دنیا کے اُن دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں حالانکہ ہمارا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، ہمارے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، مون سون کے پیٹرن بدل رہے ہیں اور ہماری کمیونٹیز اس بحران کی قیمت ادا کر رہی ہیں جس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ اس کے باوجود پاکستان جدیدیت، موافقت اور سبز ترقی کے ذریعے قیادت کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔
پاکستان کی جامع نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی اور نیشنل ایڈاپٹیشن پلان بین الاقوامی وعدوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کا بنیادی فریم ورک ہیں، ان پالیسیوں کے تحت پاکستان توانائی، پانی اور زراعت سمیت اہم شعبوں میں موسمیاتی لچک بڑھانے، گرین فنانس کے حصول اور عالمی شراکت داریوں کے فروغ پر کام کر رہا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی قومی اور صوبائی سطح پر شراکت داروں کے ساتھ مل کر قابل تجدید توانائی کے منصوبے بڑھا رہی ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جو ماحولیاتی لحاظ سے زیادہ حساس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، مانسون کے پیٹرن بدل رہے ہیں اور ہماری کمیونٹیز ایک ایسے بحران کی قیمت ادا کر رہی ہیں جس کے وہ ذمہ دار نہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کی قومی ماحولیاتی پالیسی اور قومی موافقتی منصوبہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے بنیادی ستون ہیں۔ ان پالیسیوں کے تحت توانائی، پانی اور زراعت کے شعبوں میں لچکدار نظام قائم کیا جا رہا ہے جبکہ ماحولیاتی مالیات کے حصول اور بین الاقوامی اداروں سے تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 2030 تک 60 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کے ہدف پر عمل پیرا ہے تاکہ عوام کو سستی اور صاف توانائی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شمسی توانائی، چھوٹے ہائیڈرو منصوبوں اور پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی جدید زراعت کو فروغ دے رہی ہے تاکہ پانی اور توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے عالمی سبز ترقیاتی ادارے کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ہدف ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی، کاربن کے اخراج میں کمی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی تعمیر ہے۔