اقوام متحدہ :مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے چیف ماہرِ اقتصادیات میکسی مو تورےرو کالین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس تنازع کے اثرات فوری طور پر خوراک کی فراہمی پر ظاہر نہیں ہوں گے، تاہم زرعی پیداوار کی لاگت کے ذریعے بتدریج منتقل ہو کر مستقبل میں عالمی غذائی منڈی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ادارے کی جانب سے 3 اپریل کو جاری رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مارچ 2026 میں عالمی خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ سالانہ بنیاد پر 1.0 فیصد بڑھ گیا، اور یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب اس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی مجموعی طور پر مناسب ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ محدود رہا۔ تاہم اگر توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو خوراک کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ خطہ توانائی اور کھاد کے خام مال کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اگر سپلائی میں رکاوٹ یا ترسیلی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
Trending
- ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس دوسرے روز بھی پشاور نہ پہنچ سکی
- پی ایس ایل 11 میں نئی ٹیموں کی شمولیت سے آمدنی 7.5 ارب روپے سے تجاوز کرگئی
- عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا
- پاور سیکٹر میں جدت کی جانب قدم؛ پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل قائم
- دہلی کے ہوٹل میں آتشزگی سے 18 غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تصدیق، حفاظتی کوتاہیوں کا پردہ فاش
- وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اور اسٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ
- پاکستان فٹبال کی تاریخی فتح نئی، کامیابیوں کا آغاز ہے
- ماہرہ خان کی شاہ چارلس سے ملاقات، برطانیہ کے بادشاہ نے فلاحی کاموں کو بھی سراہا
- غیر قانونی سگریٹوں کے کاروبار پر قابو پانے کیلیے بجٹ میں اہم اقدامات کا فیصلہ
- مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کا ایک بار پھر پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار