تحریک تحفظ چترالی پاکستان عوامی حقوق کی جنگ جاری رکھے گی، مبارک اسحاق چترالی
اسلام آباد: تحریک تحفظ چترالی پاکستان کے مرکزی رہنما اور بانی رکن مبارک اسحاق چترالی نے کہا ہے کہ تحریک تحفظ چترالی پاکستان کا قیام چترال کے تحفظ، عوام کے آئینی، جمہوری اور بنیادی حقوق کے دفاع، قدرتی وسائل کے تحفظ، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور علاقائی ترقی کے لیے عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی فرد یا گروہ کے مفادات کی نہیں بلکہ چترالی عوام کی اجتماعی آواز ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک نے اپنے قیام سے آج تک امن، بھائی چارے، آئین و قانون کی پاسداری اور مثبت و تعمیری جدوجہد کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے۔ ان کے مطابق تنظیم نے مشکل حالات میں عوامی مسائل کے حل، نوجوانوں کی رہنمائی، شعور کی بیداری اور علاقے کی ترقی کے لیے مسلسل کردار ادا کیا ہے۔
مبارک اسحاق چترالی نے کہا کہ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر بعض عناصر تحریک کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جسے وہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی منفی مہمات سے نہ تحریک کے عزم میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی عوام کا اعتماد متزلزل ہوگا، کیونکہ چترالی عوام حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ چترالی پاکستان اپنی قیادت، کارکنان اور رضاکاروں کے ساتھ عوامی خدمت، تعلیم، روزگار، صحت، انفراسٹرکچر، سیاحت، قدرتی وسائل کے تحفظ اور چترال کی مجموعی ترقی کے لیے سرگرم عمل ہے اور عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے متعلقہ اداروں تک مؤثر آواز پہنچا رہی ہے۔
مبارک اسحاق چترالی نے تحریک کے چیئرمین مولانا سعید اللہ شاہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مخلص، دیانتدار اور دوراندیش قیادت میں تحریک مزید مضبوط اور منظم ہو رہی ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ چترالی پاکستان ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو چترال اور اس کے عوام کے مفاد میں ہوگا، جبکہ عوامی حقوق اور علاقے کے مفادات کے خلاف ہر اقدام کی آئینی، جمہوری اور پرامن انداز میں مخالفت جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے چترالی عوام، خصوصاً نوجوانوں، بزرگوں، علماء، سیاسی و سماجی شخصیات اور بیرون ملک مقیم چترالیوں سے اپیل کی کہ وہ افواہوں، جھوٹے پروپیگنڈے اور منفی سیاست سے ہوشیار رہیں اور اتحاد، اخوت، باہمی احترام اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے ایک پرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال چترال کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔