بیجنگ:سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی انٹرنیٹ صارفین کے درمیان کرائے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 81.7 فیصد جواب دہندگان ان چند ممالک کے اس طرزِ عمل کی مخالفت کرتے ہیں جو جغرافیائی، سیاسی اور تجارتی تحفظ پسندانہ مقاصد کے تحت “زیادہ پیداواری صلاحیت” کی اصطلاح کو بے جا وسعت دے کر دوسرے ممالک پر لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جواب دہندگان نے تجارتی و اقتصادی معاملات کو سیاسی رنگ دینے اور قومی سلامتی کے دائرۂ کار کو بلاجواز وسیع کرنے کے اقدامات پر بھی تنقید کی۔
سروے کے مطابق 76 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ تجارتی سرپلس عالمی صنعتی تقسیمِ کار اور طلب و رسد کے ڈھانچے کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے، اسے “زیادہ پیداواری صلاحیت” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح 81 فیصد جواب دہندگان کے نزدیک مختلف اقسام کے تجارتی تحفظ پسندانہ اقدامات نہ صرف عالمی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ معمول کی تجارتی سرگرمیوں اور عالمی تجارتی نظام کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر پیداواری صلاحیت کی مؤثر تقسیم اور وسائل کے بہتر استعمال کو نقصان پہنچتا ہے۔ مزید برآں، 80.6 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ مناسب اور معقول صنعتی سبسڈی کی پالیسیاں مارکیٹ کی ناکامیوں کے ازالے، تکنیکی جدت، ماحولیاتی تحفظ، غربت کے خاتمے اور متوازن معاشی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
Trending
- سعودی ماہرین نے 1300 سال سے زائد قدیم مسجد دریافت کر لی، دیوار پر تحریر بھی ملی ، کیا لکھا ہے ؟
- فیول ریلیف اسکیم پر پیٹرولیم ڈیلرز کا اظہارِ تشویش
- اہم شخصیت کو لے جانیوالا طیارہ لیبیا کے ایئرپورٹ پر گر کر تباہ
- امریکا میں ڈیزل کی فی گیلن قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
- تین ہزار برس قدیم ’چیختی ممی‘ کی پراسرار موت کا معمہ
- ملک میں سونے کے بھاؤ میں کمی ریکارڈ
- اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی حوصلہ افزائی خطے کو خطرناک بھنور میں دھکیل دے گی، چینی وزارت دفاع
- تائیوان کے معاملے پر حد پار کرنے والوں کو لامحالہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، چینی وزارت خارجہ
- چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کی ملاقات میں اہم ترین اتفاق رائے چین اور بھارت کا شراکت دار بننا ہی ہے، چینی وزارت خارجہ
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔