News Views Events
Apna Watan

تعریف کیا کریں۔ پیارے بھائی کی

0

 

یلغار فیصل شامی

صحافت سے سیاست تک
اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یقیننا بھلے چنگے ہیں جی دوستوں آج ہم آپ سے کچھ پرانی یادیں شیئر کر رہے ہیں اور وہ پرانی یادیں اچھے وقت کی ہیں اور ایسے وقت کی یعنی اس زمانے کی کہ جب ہم نے لاہور چھوڑا مطلب لاہور کو خیر باد کہہ دیا اور خیر باد کیا کہا اپنی تمام تر کشتیاں بھی چلا دیں لاہور کو اللہ حافظ کہا اور وفاقی دارالحکومت کا رخ کیا اور یہ غالبا انیس سو چھیانوے کے آخر اور انیس سو ستانوے کے آغاز کی بات ہے اور جب لاہور چھوڑا مطلب لاہور کو خیر باد کہہ کے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے اور یہ بھی بتا دیں کہ ہمارے صحافتی سفر کا آغاز مطلب بطور رپورٹر جس اخبار میں پہلی دفعہ نوکری کی وہ لاہور جنگ تھا لیکن جنگ جیسے اخبار کو خدا حافظ کہا اور یہان پہ کسی شاعر کا وہی شعر یاد آتا ہے کہ
کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
تے کچھ سانوں وی مرن دا شوق سی ہم نے تو والد صاحب کے گھر بھری محفل میں میر شکیل صاحب کو بے ساختہ کہہ دیا کہ ہم نے بطور کرائم رپورٹر کام کرنا ہے اور ہم اس وقت بطور پولیٹیکل رپورٹر روزنامہ جنگ میں رانا طاہر جناب اور سہیل وڑائچ جو معروف صحافی ہیں انکی نگرانی میں کام کر رہے تھے بہر حال ہم بات کر رہے تھے لاہور کو خیر باد کہہ دیا اور اسلام آباد پہنچ گئے اور یقیننا اسلام آباد میں ہماری بہت سی اچھی یادیں ہیں جو آج بھی یاد آتی ہیں اور انہی حسین یادوں میں وہ دن بھی شامل ہیں جب ہم نئے نئے اسلام آباد پہنچے اور لاہور جنگ کو خیر باد کہا تھا اس لئے یہی خواہش تھی دل میں کہ اسلام آباد جیسے شہر میں بھی صحافت ہی کریں اور جب صحافت کا سوچا تو جناب خلیل ملک صاحب مرحوم کے پاس پہنچ گئے اور انھیں فرمائش کی کہ ہم نے اخبار میں کام کرنا ہے اور اس وقت جناب خوشنود خان صاحب اور ضیاء شاہد صاحب خبریں کے روح رواں تھے مطلب جناب خان صاحب اسلام آباد میں خبریں چلا رہے تھے جبکہ ضیاء شاہد صاحب مرحوم لاہور میں خبریں کے معاملات دیکھتے تھے اور یقیننا ضیاء شاہد صاحب مرحوم جو تھے وہ ہم سے بے پناہ پیار کرتے تھے اور جناب ضیاء شاہد صاحب مرحوم نے بھری محفل میں یہ کہا تھا کہ فیصل لکھتا بہت اچھا ہے اور تو اور بات کر رہے تھے اسلام آباد کی تو اسلام آباد میں ایک بھری محفل میں کسی نے کہا تھا کہ فیصل ہمارا ہیرو ہے اور یہ بات جناب بریگیڈیئر امتیاز صاحب نے کہی تھی اور ہمیں آج بھی یاد ہے اور یہ بھی ہماری کچھ اچھی یادوں میں سے ہے اور جب ہم اسلام آباد گئے اور جناب خلیل ملک صاحب کی وساطت سے خبریں میں کام شروع کیا اور خبریں میں بطور سب ایڈیٹر کام شروع کیا اور ان دنوں اسلام آباد بلیو۔ ایریا میں خبریں کا دفتر تھا اور ہم نے جناب خلیل ملک صاحب مرحوم کی وساطت سے ہی خبریں میں جوائن کیا اور خبریں میں ہی ہماری ملاقات جناب ملک غلام مصطفی سے ہوئی ہم خبریں ڈیسک پہ تھے اور جناب ملک غلام مصطفی دوپہر کے اخبار صحافت میں تھے اور پہلی دفعہ جناب ملک غلام مصطفی نے ہی ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور ہم لوگوں کے انٹرویو کرتے تھے لیکن ملک مصطفی صاحب نے بطور مصنف ہمارا انٹرویو کیا اور ہماری زندگی کا جو پہلا انٹرویو ملک غلام مصطفی صاحب نے کیا وہ ہفت روزہ۔ ترجمان میں شائع ہوا اور ہفت روزہ ترجمان اسلام آباد کے چیف ایڈیٹر جناب سردار جاوید تھے اور آج بھی یاد ہے کہ نوائے وقت کے فہیم انور سی آر شمسی مرحوم طارق عثمانی صوفی ہارون سہیل چشتی مستعجاب صاحب قیصر بٹ صاحب اظفر کمال صاحب جو آجکل نیشنل پریس کلب کے صدر ہیں سے بھی بہت کچھ سیکھا انکے ساتھ کام کیا اور یقیننا اسلام آباد میں صحافتی سفر اور صحافتی دوستوں کی فہرست بہت طویل ہے اور مظہر برلاس بہت سینیئر صحافی ہیں مل کسی زمانے میں میرے روم میٹ رہے بہر حال بہت لمبی داستان ہے وفاقی دارالحکومت میں طویل ترین قیام کی اور اسی طویل ترین قیام میں جناب ملک غام مصطفی کی قربت بھی حسین یادوں سے کم نا ہے اور جیسا کہ گزشتہ کالم میں بھی ذکر خیر ہو چکا ہے جناب ملک مصطفی صاحب کا یقیننا مصطفی ملک بہت با وفا ہے اور آج تک پرانے دوستوں کو بھولتا ہے اور نا ہی پرانے چاہنے والوں کو جیسا کہ بتایا کہ میری زندگی کا سب سے پہلا انٹرویو ملک غلام مصطفی نے کیا اور اس وقت میری پہلی کتاب نئی نئی منظر عام پہ آئی تھی اور آج بھی یاد ہے کہ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں وہ کتاب جس طرح سے بکی وہ ایک ریکارڈ تھا اور وہ کتاب تھی شہر کی لڑکی اور وہ ہماری پہلی کتاب تھی اور یہ کتاب مختلف کہانیوں و افسانوں کا مجموعہ ہے اور یہ کتاب ہم نے تین دن میں مکمل کی دن رات مسلسل لکھتے رہے اور تین دن میں آٹھ سے دس کہانیاں لکھ ڈالیں اور انہی کہانیوں کو اکٹھا کیا اور کتاب کی شکل دے ڈالی اور اسی کتاپ پہ جناب ملک مصطفی نے ہمارا انٹرویو کیا اور یہ بھی بتا دیں کہ جناب ملک غلام مصطفی جو ہیں انکا تعلق مذہبی گھرانے سے ہے یقیننا ہماری بہت سی یادیں جناب مصطفی صاحب کے ساتھ وابسطہ ہیں اور یہ بھی یاد ہے کہ جب مصطفی ملک صحافی تھے تو ہماری ان سے گہری دوستی ہو گئی کسی زمانے میں میرے روم میٹ بھی رہے اور ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے کہ ہم روز کسی نا کسی سیاسی شخصیت کے پاس پہنچے ہوتے تھے باقاعدگی سے اسمبلی جاتے اور سوچتے کہ آج کا لنچ کس سیاسی شخصیت کے پاس کیا جائے اور پھر لنچ کے ساتھ ساتھ اس شخصیت کا انٹرویو بھی ہو جاتا تھا اور لنچ کر کے ڈکار مارنے کے بعد سوچتے تھے کہ انٹرویو چھاپیں یا نا چھاپیں۔ اور آج بھی یہ سوچ کی ہنسی آ جاتی ہے اور یقیننا ہنسی کے ساتھ ساتھ حیرانگی اس وقت ہوئی جب ہم نے ملک مصطفی کے ہمراہ موٹر سائیکل پہ کئی دفعہ سفر کیا اور انکے ساتھ سفر میں کہوٹہ جانے کا بھی اتفاق ہوا اور جب کہوٹہ پہنچے اور ایک مخصوص علاقے پہ پہنچے تو موٹر سائیکل بند ہو گئی اور اسکے ساتھ ہی گھڑی کے سگنل بھی بند ہو گئے اور تو اور موبائل کے سگنل بھی بند ہو گئے بتلاتے چلیں کے کہوٹہ میں جناب ملک مصطفی کی ہمشیرہ رہائش پزیر تھیں۔ اور انکی رہائش کہوٹہ لیبارٹری کے قریب تھی اور یقیننا کہوٹہ کے بارے بہت سنتے تھے لیکن قریب سے بھی دیکھا اور اس وقت جنا قدیر خان صاحب مرحوم۔ کہوٹہ لیبارٹری کے انچارج تھے اور یقیننا پاکستان کے پاس ایسا دفاعی نظام ہے جو دنیا بھر میں کسی کے پاس نہیں اور یقیننا ہم نے بھی دفاعی نظام کا بغور مشاہدہ بھی کیا ہے اور آج بھی وہ وقت یاد ہے اور وقت تو وہ بھی یاد ہے جب ملک مصطفی نے صحافت کو خیر باد کہا اور میدان سیاست میں قدم رکھ دیا اور ہم نے کہا تھا کہ ملک مصطفی وفا دار ہے دوستوں کا دوست ہے اور وہ اس لئے کہ جب ملک مصطفی نے میدان صحاف کو خیر باد کہا اور ن لیگ میں شمولیت اختیار کی اور وہ شمولیت جباب انوار الحق رانی جو کہ معروف سیاستدان کے توسط سے اور آج بھی یاد ہے جب ن لیگ کے دفتر پہ شب خون مارا گیا تو ملک مصطفی اسی دفتر میں موجود تھے اور جب نقشہ بدلا تو ملک مصطفی جس دفتر میں کام کرتے تھے وہ ق لیگ کی تحویل میں آ گیا اور ملک مصطفی نے دفتر نہیں چھوڑا لیکن چوہدریوں سے پیار بڑھا لیا اور اس وقت چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین سانجھے تھے اور یقیننا سانجھے آج بھی ہیں لیکن سیاست آڑے آ گئی بہر حال بات ہو رہی تھی پیارے بھائی دوست ملک غلام مصطفی کی جنھوں نے دفتر میں کام جاری رکھا اور ن سے ق کا دفتر ہو گیا لیکن ملک مصطفی نے بطور میڈیا کوآرڈینیٹر کام جاری رکھا اور آج اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ملک مصطفی ق لیگ میں ہیں اور چوہدریوں کے قریب بھی ہیں انکے دلوں میں بھی ہیں اور سب چوہدریوں کے منظور نظر بھی اور یاد ہے کہ ملک مصطفی روزانہ گاؤں سے اپنی چھوٹی سی گاڑی پہ اسلام آباد آتے تھے اور بتا دیں کہ خانپور ملک صاحب کا گاؤں ہیں اور خانپور کے مالٹے دنیا بھر میں مشہور ہیں بہر حال بات کر رہے تھے اچھے وقت اور اچھی یادوں کی تو ہم بتا رہے تھے کہ ہماری بہت سی اچھی یادیں وابستہ ہیں وفاقی دارالحکومت سے اور پرانے دوستوں سے اور ملک مصطفی بھی ان پرانے ہی چند اچھے دوستوں اور مہربانوں میں شامل ہیں اور یقیننا آجکل ق لیگ میں ہیں اور طویل عرصے سے ق لیگ میں ہی ہیں اور ہمارے پیارے بھائی آئندہ الیکشن کی تیاری بھی کر رہے ہیں اور یقینا ہمیں امید ہے کہ وہ ضرور الیکشن میں کامیابی حاصل کرینگے کیونکہ وہ بہت ملنسار ہیں عام و خاص سے ملنے میں فرق نہیں کرتے اور نا ہی مشکل وقت میں کسی ضرورت مند کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں اور آج وہ جس مقام پہ ہیں اسکے پیچھے انکی محنت کی لمبی کہانی ہے اور ہماری بھی اپنے پیارے بھائی کے لئے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے پیارے بھائی کو سلامت رکھے اور وہ اسی طرح سے دکھی عوام کی خدمت کرتے رہیں تو بہر حال اب مزید کیا تعریف کریں اپنے پیارے بھائی کی لیکن مزید تعریف کریں نا کریں فی الحال اجازت تو لے ہی سکتے ہیں آپ سے تو بہر حال دوستوں ملتے ہیں جلد اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

Leave A Reply

Your email address will not be published.