News Views Events

چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں جنگلات کے حوالے سے اہداف

0

 

اعتصام الحق

 

چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں ترقی کا جو سفر طے کیا ہے، اس میں ایک نمایاں پہلو ماحولیاتی تحفظ اور سبز ترقی کی جانب اس کی سنجیدہ پیش رفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب  چین  کی ترقیاتی حکمتِ عملی میں جنگلات کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں جنگلات کو  اقتصادی اور سماجی ترقی کے ایک اہم ہدف کے طور پر شامل کرنا اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق چین نے 2030 تک اپنے جنگلات کے احاطے کو 25.8 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو بظاہر ایک چھوٹا اضافہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک بڑی اور پیچیدہ کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ 2025 کی سطح کے مقابلے میں 0.71 فیصد اضافہ کرنے کے لیے نہ صرف وسیع پیمانے پر شجرکاری درکار ہے بلکہ پہلے سے موجود جنگلات کی بہتر دیکھ بھال اور ان کی افزائش بھی ضروری ہے۔

چین کی گزشتہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو یہ ہدف ناممکن نہیں لگتا۔ چودہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین نے تقریباً 3.66 کروڑ ہیکٹر رقبے پر نئے جنگلات لگا کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کی کہانی ہے جس میں حکومت، مقامی ادارے اور عوام سب شامل ہیں۔ اس شجرکاری مہم نے نہ صرف بنجر زمینوں کو سرسبز بنایا بلکہ کئی علاقوں میں ماحولیاتی توازن بھی بہتر کیا۔

تاہم، اس کامیابی کے باوجود چیلنجز ابھی باقی ہیں۔ چین کے مختلف علاقوں میں جنگلات اور نباتات کی کمی اب بھی ایک حقیقت ہے، خاص طور پر وہ خطے جہاں پانی کی قلت یا سخت موسمی حالات پائے جاتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں صرف درخت لگانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کی بقا اور نشوونما کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ صرف جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیتا ہے۔ اس منصوبے میں جنگلات کے ذخیرے کا حجم 2030 تک 22.4 ارب کیوبک میٹر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درختوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے گھنے پن ، مضبوطی اور حیاتیاتی اہمیت کو بھی بڑھایا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق، گھنے اور صحت مند جنگلات ماحولیاتی نظام کے لیے کہیں زیادہ مفید ہوتے ہیں۔ ایسے جنگلات زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ اس کے علاوہ یہ زیادہ آکسیجن خارج کرتے ہیں، جو انسانی صحت اور فضا کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔

پانی کے تحفظ کے حوالے سے بھی جنگلات کا کردار انتہائی اہم ہے۔ درخت بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے میں مدد دیتے ہیں، جس سے زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہوتی ہے اور سیلاب کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ چین جیسے بڑے اور متنوع جغرافیہ والے ملک میں یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں کچھ علاقے شدید بارشوں جبکہ کچھ خشک سالی کا شکار رہتے ہیں۔

اقتصادی نقطۂ نظر سے بھی جنگلات کی اہمیت کم نہیں۔ لکڑی، جڑی بوٹیوں اور دیگر قدرتی وسائل کے ذریعے مقامی معیشت کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی جنگلات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خوبصورت قدرتی مناظر نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

چین کی یہ حکمتِ عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ترقی اور ماحولیات کو ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون سمجھا جا رہا ہے۔ سبز ترقی کا تصور دراصل اسی توازن کا نام ہے، جہاں اقتصادی اہداف کو حاصل کرتے ہوئے قدرتی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ سفر آسان نہیں، مگر چین کی مسلسل کوششیں اور واضح اہداف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس سمت میں سنجیدہ ہے۔ جنگلات کے رقبے اور معیار میں اضافہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ بنے گا بلکہ عوام کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں لائے گا۔

یہ  کہا جا سکتا ہے کہ چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ محض ایک ترقیاتی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کا خاکہ ہے جہاں سرسبز زمین، صاف فضا اور مضبوط معیشت ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ماڈل دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح پائیدار ترقی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا تعمیر کی جا سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.