بشام میں چینی انجینئرز پر حملے سے متعلق خیبرپختونخوا پولیس نے دوسری رپورٹ وفاق کو ارسال کردی۔
خیبرپختونخوا پولیس کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی جانچ کی بنیاد پر بظاہر لگتا ہے کہ چینی باشندوں کو لے جانے والی گاڑی بلٹ پروف اور بم پروف نہیں تھی جبکہ ہلاک ہونے والے چینی باشندوں میں ایک خاتون انجینئر بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کی فضائی تصویر بھی حاصل کر لی گئی ہے اور تھانہ بشام تقریباً 6 کلومیٹر جبکہ داسو ڈیم 77 کلومیٹر جائے وقوعہ سے دور ہے، تباہ ہونے والی بس دوسری بس سے 15 فٹ کے فاصلے پر تھی اور خودکش دھماکے سے بس 300 فٹ گہرائی میں جاگری۔
پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی قافلے میں شامل تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، خودکش بمبار کے زیراستعمال گاڑی کے ٹکڑے حاصل کر لئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بشام میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں خاتون سمیت 6 چینی باشندے جاں بحق ہوئے تھے۔
Trending
- پاکستان کی غیرملکی کرنسی ڈیفالٹ ریٹنگ بی مائنس برقرار: فچ
- اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا پھر کیا چیز رکاوٹ بنی؟ایران نے بتا دیا
- پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز کا پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- مفت سولر پینل کا حصول اور آسان
- ایلون مسک کا کورونا ویکسین سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ
- بین الاقوامی برادری کو چین کو درست طور پر سمجھنا چاہیے ، ہسپانوی وزیرِاعظم
- چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے، چینی وزیر خارجہ
- ٹرمپ ایران پر محدود حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں،امریکی اخبارکادعویٰ
- فلپائن کی جانب سے نام نہادمشترکہ گشت کا انعقاد علاقائی امن و استحکام کے لئے نقصان کا باعث ہے،چینی سدرن تھیٹر کمانڈ
- آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی سامان اور توانائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے، چینی وزارت خارجہ