بشام میں چینی انجینئرز پر حملے سے متعلق خیبرپختونخوا پولیس نے دوسری رپورٹ وفاق کو ارسال کردی۔
خیبرپختونخوا پولیس کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی جانچ کی بنیاد پر بظاہر لگتا ہے کہ چینی باشندوں کو لے جانے والی گاڑی بلٹ پروف اور بم پروف نہیں تھی جبکہ ہلاک ہونے والے چینی باشندوں میں ایک خاتون انجینئر بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کی فضائی تصویر بھی حاصل کر لی گئی ہے اور تھانہ بشام تقریباً 6 کلومیٹر جبکہ داسو ڈیم 77 کلومیٹر جائے وقوعہ سے دور ہے، تباہ ہونے والی بس دوسری بس سے 15 فٹ کے فاصلے پر تھی اور خودکش دھماکے سے بس 300 فٹ گہرائی میں جاگری۔
پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی قافلے میں شامل تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، خودکش بمبار کے زیراستعمال گاڑی کے ٹکڑے حاصل کر لئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بشام میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں خاتون سمیت 6 چینی باشندے جاں بحق ہوئے تھے۔
Trending
- لاکھوں افراد رواں ماہ ایک نایاب مکمل سورج گرہن کے نظارے کا مشاہدہ کریں گے
- پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
- افغانستان میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کے لیے ایڈوائزری جاری، افغانستان سے فارغ التحصیل میڈیکل گریجویٹس پاکستان میں پریکٹس کے اہل نہیں ہونگے
- اگست کے پہلے کاروباری دن 2105 پوائنٹس بڑھ گئے
- شوگر ملز مالکان چینی کی برآمد کیلئے ایک بار پھر متحرک
- اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
- 52 سال بعد بچی کی پیدائش، جشن مناتے اہلِ خانہ کی ویڈیو وائرل
- چین کا 15واں پانچ سالہ بجلی منصوبہ جاری، 2030 تک سبز توانائی کا نظام قائم کرنے کا ہدف
- چینی انڈیکسز اور اثاثوں کے عالمی اثر و رسوخ میں مزید اضافہ کیا جائے گا، چائنا سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن
- “چینی اسٹائل کی ٹھنڈک” نے عالمی موسمِ گرما کی کھپت کا نقشہ ہی بدل دیا، چینی میڈیا