اعتصام الحق ثاقب
چین اس وقت زرعی شعبے میں جس تیزی سے جدت لا رہا ہے، وہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ غذائی تحفظ اور دیہی خوشحالی کی ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ شمال مشرقی چین کے شہر جیاموسی میں یہ تبدیلی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں زرعی مشینری کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مقامی کسانوں کی زندگیوں میں حقیقی فرق لا رہی ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چین میں زرعی میکانائزیشن محض منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ ہو رہی ہے۔ یہاں کی کمپنیاں مقامی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر نئی نسل کے اسمارٹ ٹریکٹر تیار کر رہی ہیں، جن میں جدید سینسرز، درست نیویگیشن سسٹم اور خودکار کنٹرول جیسی سہولیات شامل ہیں۔
جیاموسی کو ملک میں اسمارٹ زرعی مشینری کا ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر میں 23 زرعی مشینری ادارے کام کر رہے ہیں، جن کا سالانہ کاروباری حجم کم از کم 28 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کلیدی پرزہ جات سے لے کر مکمل مشین کی تیاری تک ایک مکمل انڈسٹریل چین موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشینری کی تیاری کے تمام مراحل ایک ہی خطے میں مکمل ہو جاتے ہیں، جس سے لاگت کم اور معیار بہتر ہوتا ہے۔
زرعی مشینری میں ہونے والی یہ ترقی کسانوں کے لیے کس طرح فائدہ مند ہے؟ صوبائی حکام کے مطابق میکانائزیشن میں بہتری نے انسانی محنت میں واضح کمی کی ہے۔ پہلے جہاں بیج بونا، کھاد ڈالنا اور فصل کاٹنا زیادہ وقت اور مشقت طلب کام تھے، اب جدید مشینیں یہ کام کم وقت میں اور زیادہ درستگی کے ساتھ انجام دے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، میکانائزڈ بوائی میں بیج کی درست گہرائی اور مناسب فاصلہ یقینی بنایا جاتا ہے، جس سے پودوں کے اگنے کی شرح بہتر ہوتی ہے اور بالآخر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
چین کی وزارتِ زراعت و دیہی امور کے مطابق ملک میں فصلوں کی کاشت، نگہداشت اور کٹائی کے عمل میں میکانائزیشن کی مجموعی شرح تقریباً 76 سے 77 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یعنی زرعی سرگرمیوں کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ اب مشینوں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اناج کی بڑی فصلوں جیسے گندم، مکئی اور چاول میں مشینی کاشت اور کٹائی کی شرح اور بھی زیادہ ہے، جہاں گندم میں یہ شرح تقریباً 97 فیصد، مکئی میں 91 فیصد اور چاول میں 88 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت نے 2025 تک 75 فیصد میکانائزیشن کا ہدف مقرر کیا تھا، جو موجودہ پیش رفت کے مطابق حاصل کیا جا چکا ہے بلکہ بعض شعبوں میں اس سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
جیاموسی جیسے شہروں میں اس ترقی کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں۔ زرعی مشینری کی صنعت نے مقامی معیشت کو بھی تقویت دی ہے۔ فیکٹریوں میں انجینئر، ٹیکنیشن، مزدور اور انتظامی عملہ کام کر رہا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پرزہ جات بنانے والی چھوٹی صنعتیں بھی اس بڑی انڈسٹریل چین کا حصہ بن چکی ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جدید زرعی مشینری ماحول دوست کاشتکاری میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ جب بیج، کھاد اور پانی کی درست مقدار استعمال کی جاتی ہے تو وسائل کا ضیاع کم ہوتا ہے۔ اسمارٹ مشینیں زمین کی حالت کو مدنظر رکھ کر کام کرتی ہیں، جس سے نہ صرف لاگت کم ہوتی ہے بلکہ ماحول پر بھی کم دباؤ پڑتا ہے۔
عام کسان کے لیے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کی محنت کا بہتر صلہ مل رہا ہے۔ جہاں پہلے موسمی حالات یا غیر منظم کاشتکاری کی وجہ سے نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا تھا، اب ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر منصوبہ بندی ممکن ہے۔ کسان کم وقت میں زیادہ رقبہ کاشت کر سکتے ہیں اور بہتر معیار کی فصل حاصل کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کی زرعی مشینری میں جدت ایک وسیع تر قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غذائی تحفظ کو یقینی بنانا، دیہی معیشت کو مضبوط کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ جیاموسی شہر اس تبدیلی کی ایک زندہ مثال ہے، جہاں صنعت، تعلیم اور زراعت ایک ساتھ مل کر مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ کسانوں کی زندگی بھی آسان بنائی جا سکتی ہے۔ چین کا تجربہ اس حوالے سے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک قابلِ غور مثال پیش کرتا ہے۔